فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 54
۵۴ دفعہ نمبر ۱۷ نکاح فاسد ایسا نکاح جس میں صحت نکاح کی ابدی حرمت کی شرط کے علاوہ کوئی اور شرط مفقود ہو مثلاً بوقت نکاح ولی کی اجازت نہ لی گئی ہو یا ایجاب و قبول کے وقت گواہاں موجود نہ ہوں یا نکاح موقت ہو۔تشریح نکاح فاسد اور اس کے احکام کے بارہ میں یہ جاننا ضروری ہے کہ نکاح فاسد کا حکم کیسی نکاح پر صرف ایسی صورت میں لگایا جاتا ہے جب کہ اس نکاح کے نتیجہ میں فریقین کے درمیان ازدواجی تعلق قائم ہو جائے اگر ازدواجی تعلق قائم نہ ہوا ہوا اور نکاح کا فساد علم میں آجائے تونکاح واجب الفسخ ہوگا اور فوری تفریق لازمی ہوگی اور فریقین کو کوئی حقوق حاصل نہیں ہوں گے، لیکن اگر فنسخ سے پہلے ازدواجی تعلق قائم ہو جائے تو شہد فی المعقد کی بناء پر حد زنا ساقط ہوگی۔اگر وجد فساد عامنی ہے تو ضیح کے فیصلہ سے پہلے اس کے دُور ہونے پر پہلا نکاح ہی بحال رہے گا اور اعلان نکاح کے بعد سے ہی فریقین کے جملہ حقوق اور ان کی تمام ذمہ داریاں قائم متصور ہوں گی لیکن اگر فساد بنیادی ان تمام شرائط میں پایا جائے تو ایسا نکاح ہر حال لازم انسخ ہو گا جیسے عدت کے دوران کیا ہوا نکاح واجب الفخ ہے اور اس وجہ فساد کے دُور ہو جانے کے بعد اگر فریقین ازدواجی تعلق قائم کرنا چاہیں تو دوبارہ نکاح پڑھنا ضروری ہوگا۔