فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء)

by Other Authors

Page 52 of 135

فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 52

۵۲ دفعہ نمبر ۱۶ نکاح صحیح کے نقیمہ میں فریقین کو حق مساكنت حق مقاربت حق تو ارث اور حق ثبوت نسب اور اس قسم کے دوسرے سب معاشرتی حقوق حاصل ہو جاتے تشریح عمان میں سے تیج میں زوجین کو کچھ حقوق حاصل ہوتے ہیں اور کچھ فرائض ان پر مائے ہوتے کے نتیجہ عائد ہیں جیسا کہ فرمایا :۔وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُونِ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةً له یعنی جس طرح ان عورتوں پر کچھ ذمہ داریاں ہیں ویسے ہی مطابق دستور انہیں کچھ حقوق بھی حاصل ہیں۔ہاں مردوں کو اُن پر ایک طرح کی فوقیت حاصل ہے۔فریقین کے حقوق و فرائض۔۔نکاح کے نتیجہ میں جو حقوق دو طرفہ طور پر حاصل ہوتے ہیں وہ حق مساکنت ، حق مقاربت ، حق ثبوت نسب حق تو ارث اور حرمت مصاہرت ہیں یعنی میاں بیوی دونوں اکٹھے ایک جگہ رہنے کاحق رکھتے ہیں کیسی دوسرے کو اس پر اعتراض کا حق نہیں اس طرح دونوں حسب حصہ شرعی ایک دوسرے کے ترکہ میں حقدار ہوں گے۔دونوں کے لئے حرمت مصاہرت واقع ہو گی یعنی مصاہرت کی بناء پر واقع ہونیوالے ایسے رشتے حرام ہوں گے جن کا ذکر دفعہ نمبر اور اس کی مشروط نمبر کی تشریح میں گذر چکا ہے۔بیوی کے حقوق و فرائض و نکاح صحیح کے نتیجہ میں بیوی مہر کی حقدار ہو جاتی ہے اور خاوند پر اس کی ادائیگی واجب ہے لیئے ے سورۃ البقرہ آیت ۲۲۹ سے تفصیل کے لئے دیکھیں دفعہ نمبر 4