فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 23
۲۳ دفعہ نمبر تشریح انعقا د نکاح نکاح فریقین کے ایجاب و قبول اور معروف طریقہ پر اس کے اظہار سے منعقد ہوتا ہے۔یہ ایجاب و قبول ایک ہی مجلس میں ہوا اور اس کا عام اعلان ہو۔ک :- ایجاب و قبول کے معنے ہیں کہ ایک فریق کی طرف سے مقرر کردہ شرائط کے مطابق نکاح کی تجویز ہوا اور دوسرا فریق اسے قبول کرے۔۔۔معاہدہ نکاح میں ایجاب عموماً عورت کی جانب سے ہوتا ہے قبول مرد کی جانب سے لیکن ایسا ہونا ضروری نہیں پہلا قول خواہ کیسی فریق کی جانب سے ہو ایجاب کہلائے گا اور دوسرے کی جانب سے اس کا مثبت جواب قبول کہلائے گا۔بعض صورتوں میں جب ایک ہی شخص دونوں جانب سے ولی یا وکیل ہو تو وہ خود ایجاب و قبول کر سکتا ہے۔ایجاب و قبول کے لئے الفاظ کی کوئی پابندی نہیں۔الفاظ خواہ کچھ ہوں لیکن واضح اور غیر مہم ہونے چاہئیں جن سے نکاح اور باہمی رشتہ ازدواج پر رضامندی کا اظہار ہو اور ایسے اظہار سے نکاح پر رضا مندی کے علاوہ اور کوئی مفہوم نہ نکلتا ہوئے اگر فریقین میں سے کوئی ایک گونگا اور بہرہ ہو تو اشارہ کے ذریعہ سے بھی ایجاب و قبول ہو سکتا ہے بشرطیکہ اشارہ واضح ہوا اور اس سے یہ مفہوم نکلتا ہو کہ فریقین زوجیت کے رشتہ میں ه زبانی اظہار کے علاوہ تحریری طور پر بھی رضامندی کا اظہار کیا جائے تو بلحاظ ثبوت ایسا ایجاب و قبول زیادہ معتبر اور مستند ہوگا۔