فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء)

by Other Authors

Page 24 of 135

فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 24

۲۴ منسلک ہو رہے ہیں اور اس پر وہ رضا مند ہیں۔ب :۔ایک ہی مجلس میں ایجاب و قبول مجلس نکاح میں ایجاب و قبول اصالتا بھی ہو سکتا ہے اور وکالتا بھی یعنی لڑکی کے لئے خود مجلس میں حاضر ہو گر ایجاب یا قبول کرنا لازمی نہیں اس کا وکیل اس کی طرف سے رضا مندی کا اظہار کر سکتا ہے اور معروف کے لحاظ سے یہ طریق زیادہ پسندیدہ ہے۔اسی طرح لڑکا بھی اگر مخلتیں نکاح میں موجود نہ ہو تو اس کا وکیل اس کی طرف سے ایجاب یا قبول کر سکتا ہے۔البتہ ایسی صورت میں ضروری ہے کہ جو فریق موجود نہیں وہ مستند اور قابل اعتماد زبانی یا تحریری ثبوت کے ذریعہ اپنی رضامندی ظاہر کرے اور اس کی طرف سے وکیل کے تقریر کا ثبوت موجود ہو۔ج : نکاح کا مناسب اعلان ضروری ہے۔نکاح کا اعلان ایسے رنگ میں ہونا چاہیئے کہ عام لوگوں کو اس کا علم ہو جائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نکاح کا اعلان کرو خواہ دن کے ذریعہ ہو۔حدیث کے الفاظ یہ ہیں :- اعْلِمُوا هَذَا التَّكَاحَ وَاجْعَلُوهُ فِي الْمَسَاجِدِ وَاضْرِبُوا عَلَيْهِ بِالدَّتِ له " یعنی نکاح کا اعلان کرو مسجد میں پڑھاؤ اور اس کے اعلان کے لئے دن بجاؤ" موجودہ دور میں اخبارات اور رسائل کے ذریعہ بھی اعلان کیا جاسکتا ہے۔خفیہ نکاح اگرچہ گواہان موجود ہوں ناپسندیدہ ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خفیہ نکاح کے متعلق فرمایا : " لا نِكَاحَ إِلَّا بِبَيِّنَةٍ لَا نِكَاحَ إِلَّا بِشَهُودٍ الْبَغَايَا اللَّاتِي يَنْكِحْنَ اَنْفُسَهُنَّ بغير بينة یعنی بینہ اور گواہوں کے بغیر نکاح درست نہیں۔وہ عورتیں بدکردار ہیں جو شریعیت کے بیان کردہ اصول کے مطابق بقیہ قائم کئے بغیر اپنا نکاح خود کر لیتی ہیں۔ے ترندی کتاب النکاح باب اعلان النکاح و ابن ماجه ص۱۳ کے اعلان کے ذرائع سے گریز کیا جائے۔خبر کو پھیلنے سے روکا جائے۔کے ترندی کتاب النکاح باب لا نكاح الابينة من