فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء)

by Other Authors

Page 22 of 135

فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 22

۲۲ مرد کا اس کے ہم پلہ ہونے کی معاشرتی اہمیت کو تسلیم کیا ہے کیونکہ کفایت کا اصل مقصد فریقین کی ازدواجی زندگی میں ہم آہنگی اور موافقت پیدا کرنا ہے۔کفویں مذہب، دینداری اور معاشرتی یکسانی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔اس کے علاوہ نسب پیشہ، تعلیم اور عمر وصحت کو بھی مد نظر رکھ لیا جائے تو اس میں برکت اور معاشرتی بہتری ہے۔تاہم اگر مرد اور عورت اور اس کا ولی اس دوسرے درجہ کے تفاوت کو علم کے باوجود نظر انداز کر دیں تو شر کا نکاح مجمل ہوگا اور اس تفاوت کی وجہ سے اس نکاح کے فسخ کئے جانے کے مطالبہ کا کوئی جواز نہ ہوگا۔بهر حال اِن سب امور میں سے دینی کفائت اور مساوات کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔اسی بناء پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :- تُنْكَحُ الْمَرأَةُ الأَرْبَعِ لِمَا لِهَا وَ لِحَسْبِهَا وَلِجَمَالِهَا وَلِدِينِهَا فَاظُفُرُ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ " له یعنی اہلی زندگی کو خوش گوار بنانے کے لئے کیسی عورت سے شادی کرنے کے سلسلہ میں جن باتوں کو مد نظر رکھا جاتا ہے ان میں مندرجہ ذیل چار امور کو زیادہ اہمیت حاصل ہوتی ہے۔اقول عورت کے خاندان کی مالی حالت ، دوئم عورت کی خاندانی وجاہت ، سوئم عورت کا حسن و جمال اور چہارم عورت کی دینداری اور اس کی حسین سیرت۔تاہم ایک مومن کو چاہیے کہ وہ حسن سیرت اور دینداری کے پہلو کو ترجیح دے۔ایسی ہی تمدنی، معاشرتی اور تربیتی وجو ہات کی بناء پر پیدا ہونے والے مسائل اور اُلجھنوں کے پیش نظر جماعت احمدیہ ایک احمدی عورت کو اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ وہ کسی غیر احمدی مرد سے شادی کرے۔ایسی شادی کفائت کے دینداری والے معیار پر پوری نہیں اُترتی تاہم اگر نظام جماعت کی خلاف ورزی میں ایسی شادی ہو جائے تو اسے باطل قرار نہیں دیا جائے گا یعنی ایسے نکاح کے بعد پیدا ہونے والی اولا د ثابت النسب ہوگی اسے سارے شرعی اور قانونی حقوق حاصل ہوں گے اور وہ وراثت کی حقدار ہوگی۔سے له بخاری کتاب النکاح باب الاكفاء في الدين جلد ۲ ص۷۶ ے مزید تفصیل کے لئے دیکھیں دفعہ نمبر ۱۴ ۷ انکاح فاسد اور ثبوت النسب۔16