فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 20
ت لعه نمبر۴ نکاح کی اغراض کے لئے مرد اور عورت کی بلوغت طبعی کافی اور معتبر ہے تاہم ملکی حالات اور علاقہ کی آب و ہوا کو ملحوظ رکھتے ہوئے مرد اور عورت کی بلوغت کی اوسط عمر متعین کرنے کے لئے مناسب قانون بنایا جا سکتا ہے۔تشریح اغراض نکاح کے لئے شرعاً لڑکا یا لڑکی اُس وقت بالغ سمجھے جائیں گے جب وہ جسمانی نشو و نما کے اعتبار سے بالغ ہو جائیں گے جس کی ایک طبعی علامت لڑکے کے لئے احتلام اور لڑکی کے لئے حیض کا شروع ہوتا ہے۔ہے۔بلوغت کی یہ عمر خاندانی حالات ، خوراک، صحت اور ملکی آب و ہوا کے اعتبار سے مختلف ہو سکتی اگر یکیسانی کی غرض سے قانون کا تقاضا ہو تو مختلف اغراض کے لئے بلوغت کی عمر سالوں میں بھی معین کی جا سکتی ہے۔مثلاً شادی کی اغراض کے لئے لڑکے کی عمر ۱۸ سال اور لڑکی کی عمر 14 سال مقرر کی جاسکتی ہے۔اسی طرح مالی تصرف کے لئے لڑکے لڑکی کی عمر اٹھارہ سال تجویز کی جاسکتی ہے اور اس میں کوئی شریعی روک نہیں۔