فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 21
۲۱ دفعہ نمبره رضا عاقل بالغ مرد اپنے نکاح کے لئے خود رضامندی دے گا البتہ عاقل بالغ عورت کی اپنی رضامندی کے علاوہ اس کے ولی کی رضامندی بھی ضروری ہے۔تشریح چونکہ نکاح سے متعلق مجملہ حقوق و فرائض براہِ راست مرد سے وابستہ ہیں جیسے حق مہر کی ادائیگی، بیوی اور بچوں کے نان و نفقہ کی ذمہ داری اور ان حقوق و فرائض کی ادائیگی کیسی وکیل یاولی کے ذمہ واجب نہیں ہوتی اس لئے صحت نکاح کے لئے عاقل بالغ مرد کی اپنی رضامندی ہی کافی اور معتبر ہے۔البتہ اگر مرد نا بالغ یا مجنون ہو تو اس کے ولی کی رضامندی ضروری ہوگی اور وہ بھی ان مالی حقوق کی ادائیگی کا ذمہ دار ہو گا جو نکاح کے نتیجہ میں خاوند کے ذمہ عائد ہوتے ہیں۔عورت کی اپنی رضامندی کے ساتھ اس کے ولی کی رضا مندی بھی ضروری ہے۔اس بارہ میں فصل بحث زیر دفعہ و تشریح شرط ۲ ۳۵ دیکھیں۔دفعہ نمبر ۶ کفائت نکاح میں مرد کا عورت کے لئے کفو ہو نامستحسن ہے تشریح کھو کے لفظی معنے ہم پلہ اور برا بر ہونے کے ہیں فقہاء نے بعض دائروں میں کمو عینی