فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 19
19 ہو جانے کے ہیں۔اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ شادی کا مقصد مرد اور عورت کو شیطانی وساوس اور شہوانی حملوں سے محفوظ رکھنا ہے گویا تحفظ عفت اور تقوی شعار زندگی نکاح کے اہم مقاصد میں شامل ہے۔اسی طرح نکاح کے ذریعہ سے نسل انسانی کی بقاء نسب کا تحفظ اور عائلی زندگی کو مضبوط بنیادوں پر قائم کرنا بھی مقصود ہے۔دفعہ نمبر ۳ ه المبيت نکاح ہر عاقل، بالغ احمدی نکاح کرنے کا اہل ہے تشریح چونکہ کان کے نتیجہ میں فریقین پر ایسے حقوق وفرائض عائد ہوتے ہیں جس کے فریقین شرعًا اور قانوناً پابند ہوتے ہیں اس لئے اس معاہدہ کے دو بنیادی اوصاف یعنی عقل اور بلوغت کا پایا جانا ضروری ہے۔یہی وجہ ہے کہ مجنون ، فاتر العقل اور نا بالغ خود اپنا نکاح کرنے کے اہل نہیں ہیں ہاں ان کی طرف سے ان کے ولی یہ معاہدہ کر سکتے ہیں۔ایسی صورت میں فاتر العقل یا نا بالغ کا ولی بوجہ نیابت منکوحہ کے نان و نفقہ اور مہر کا ذمہ دار ہوگا۔تے لے سوال : اگر نابالغ لڑکے یا لڑکی کا نکاح اس کا ولی کر دے اور ہنوز وہ نابالغ ہی ہو اور ایسی ضرورت پیش آو سے تو کیا طلاق بھی ولی دے سکتا ہے یا نہیں ؟ جواب :- حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ دے سکتا ہے؟ بدر ۲۵ جولائی شاه بحوالہ فتاوای مسیح موعود )