فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 130
ایسے حالات میں اگر ذوی الفروض کے حصوں کا مجموعہ اکائی یا بالفاظ دیگر نسب نما یا مخرج سے بڑھ جائے تو اس صورت میں تمام تر کہ کو ذوی الفروض کے حصوں کے تناسب سے تقسیم کریں گے اس طرح پر ذوی الفروض اپنے معین حصے سے بحصہ رسدی قدرے کم حاصل کرے گا۔مثلاً ایک متوفیہ نے خاوند، د حقیقی بہنیں اور ماں وارث چھوڑے۔اُن کے مقررہ حصے ، ہے اور پا ہیں جن کا مجموعہ ہے جو اکائی سے بڑا ہے۔اس صورت میں ان کے حصوں کا تناسب معلوم کریں گے جو ہے کے لحاظ سے ۳، ۱،۴ ہے۔اس طرح ترکہ کے گل آٹھ حصے کریں گے جن میں سے تین خاوند کو چار بہنوں کو اور ایک ماں کو ملے گا۔اس طریق سے ان کے حاصل کر دہ حصوں میں وہی نسبت قائم رہتی ہے جو کہ اللہ تعالیٰ نے مقرر فرمائی ہے۔اِس طریق عمل کو عول کہتے ہیں۔باب نهم حمل کی میراث جنین اپنے وفات یافتہ مورث کا وارث ہے بشرطیکہ وہ زندہ پیدا ہو لیں اگر کوئی شخص فوت ہو جائے اور اس کی بیوی یا اس کے خاندان کی کوئی ایسی عورت حاملہ ہو جس کی اولاد کو میت کے ترکہ میں سے حصہ پانے کا حق پہنچتا ہو تو ان حالات میں بہتر اور سہل صورت تو یہ ہے کہ وضع حمل کے بعد ہی تو کر تقسیم کیا جائے لیکن اگر بعض ورثاء اس انتظار میں کچھ حرج تنگی یا ڈر محسوس کریں کہ کہیں ترکہ ضائع نہ ہو جائے تو پھر موجودہ ورثاء قانونا ترک تقسیم کروا سکتے ہیں۔اس صورت حال میں حسب ذیل دو سوال پیدا ہوتے ہیں :۔" لا - وضع حمل کے لئے زیادہ سے زیادہ کتنا عرصہ انتظار کیا جائے۔ب- جاسکتا۔اگر انتظار نہ کیا جا سکتا ہو اور ترکہ تقسیم کروانا مطلوب ہو تو ترکہ سے حمل کے لئے کتنا حصہ محفوظ رکھا جائے۔