فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 131
١٣١ پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ عام حالات میں مدت حمل طبتی شواہد کی بناء پر مقرر کی جائے گی لیے دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ جو ترکہ بھی حمل کے لئے محفوظ رکھا جائے وہ بلحاظ تعداد و کیفیت زیادہ سے زیادہ امکان کو مد نظر رکھ ک محفوظ کیا جائے۔وضع حمل کے بعد اگر محفوظ کئے ہوئے حصّہ سے کچھ بچے جائے تو وہ وارثوں کو ان کے حصوں کی نسبت کے لحاظ سے لوٹا دیا جائے گا اور اگر محفوظ کیا ہو ا حصہ کم ہو جائے تو ورثاء نومولود وارث کو اس کے حصہ کے مطابق اپنے حاصل کردہ مال میں سے واپس کرنے کے ذمہ دار ہوں گے۔اسی طرح اگر کسی وقت یہ ثابت ہو جائے کہ حمل نہیں تھا یا اسقاط ہو جائے یا بچہ مُردہ پید اہو تو محفوظ کیا گیا ترکہ ورثاء میں ان کے حقوں کی نسبت کے لحاظ سے تقسیم کر دیا جائے گا۔اگر یہ ثابت ہو کہ بچہ کچھ دیر (یعنی چند لمحات) زندہ رہ کر فوت ہو گیا ہے تو اس صورت میں بچہ وارث ہو گا اور اس کا ترکہ س نئے وارثوں میں تقسیم ہو گا۔باب دہم ه عاونات حادثات ، آفات سماوی یا جنگوں میں بظاہر ایک ساتھ فوت ہونے والے رشتہ داروں کا حکم۔اگر کسی حادثہ میں ایک ساتھ بہت سے رشتہ دار فوت ہوں تو جو عمر میں بڑا تھا وہ پہلے فوت شدہ تسلیم کیا جائے گا۔اس طرح وہ مورث ہو گا اور چھوٹی عمر کا وارث۔ے زیادہ سے زیادہ تین سو دن مدت حمل سمجھی جاتی ہے۔برطانوی عدالت میں سب سے زیادہ لمبا عرصہ حمل ۳۴۹ دن تک مانا گیا ہے۔A TEXT BOOK OF MID WIFERY BY THONSTON'S KENER PAGE 110 نیز دیکھیں دفعہ نمبر۲۳ مع تشریح۔