فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء)

by Other Authors

Page 129 of 135

فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 129

باب ہفتم ۱۲۹ رو بعض حالات میں ذوی الفروض کو اُن کے مقررہ حصے ادا کرنے کے بعد کچھ ترکہ بیچ جاتا ہے اور میت کا کوئی عصبہ موجود نہیں ہوتا جو یہ بچا ہوا تر کہ حاصل کرے چونکہ ذوی الارحام تو نبی ذوی الفروض کی موجودگی میں حق میراث حاصل نہیں ہوتا اس لئے ایسی صورت میں باقی ماندہ تر کرنسی ذوی الفروض کو ہی ان کے مقررہ حصوں کی نسبت کے لحاظ سے کوٹا دیا جاتا ہے اس طرز عمل کو رد کہتے ہیں۔نبی ذوی الفروض یہ ہیں :- والدہ ، دادی، بیٹی ، پوتی، حقیقی بہن، علاتی بہن ، اخیافی بھائی۔۔اس سے ظاہر ہے کہ خاوند یا بیوی کو بطریق رو زائد ترکہ نہیں ملے گا۔باب شتم عول بعض دفعہ تقسیم ترکہ کے وقت ذوی الفروض اتنی تعداد میں موجود ہوتے ہیں کہ ان کے حصوں کا مجموعہ اکائی سے بڑھ جاتا ہے اور یہ صورت اس وقت پیش آتی ہے جبکہ میت کے وارثوں میں کوئی بیٹا یا پوتا یا پڑ پوتا وغیرہ موجود نہ ہو اگر یہ موجود ہوں تو ذوی الفروض کی تعداد یا تو گر جاتی ہے یا ان کے حصے اس قدر کم ہو جاتے ہیں کہ ان کے حصوں کا مجموعہ اکائی سے کم رہتا ہے اور اس طرح ترکہ کا خاصہ حصہ بیچے جاتا ہے جو عصبات (بیٹا، پوتا یا پڑ پوتا وغیرہ ) کو ملتا ہے۔