فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء)

by Other Authors

Page 127 of 135

فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 127

۱۲۷ 1 - وَاُولُوا الْأَرْحَامِ بَعْضُهُمْ أولى بِبَعْضٍ فِي كِتَابِ اللهِ اِنَّ اللَّهَ بِكُلِّ شَى عَلِيمٌ یعنی بعض رحمی رشتہ دار اللہ کی کتاب کی رُو سے باہمی رشتہ کے لحاظ سے ایک دوسرے سے زیادہ قریبی ہوتے ہیں۔اللہ ہر چیز کو خوب جانتا ہے۔ب۔ایک اور جگہ فرمایا :- واد احطَرَ الْقِسْمَةَ أولُوا الْقُرْنِي وَالْيَاتي والمسكين فَارْزُقُوهُمْ مِنْهُ وَقُولُوا لَهُمْ قَوْلًا مَعْرُوفًات اور جب ترکہ کی تقسیم کے وقت دوسرے قرابت دار اور یتیم اور مساکین بھی آجائیں تو اس میں سے کچھ انہیں بھی دے دو اور انہیں مناسب اور عمدہ باتیں کہو۔ان آیات سے اس استنباط کی تائید سنت رسول اور احادیث نبوی سے بھی ہوتی ہے چنانچہ حضرت سعید بن منصور سے مروی ہے کہ ثابت بن و جدائ جب فوت ہوئے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیس بن عاصم سے دریافت فرمایا کہ اس کی نسبت تم جانتے ہو ؟ قیس بن عاصم نے کہا یہ ہم میں غر تھا ہم صرف اس کے بھانجے کو پہنچانتے ہیں وہ ابولبابہ بن مند رہے۔چنانچہ ثابت بن وجدائی کی میراث رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بھانجے کو دلوا دی۔ایک اور حدیث ہے :- عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ابنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْ اَنْفُسِهِمْ - حضرت انس سے روایت ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قوم کا بھانجا انہیں میں سے ہوتا ہے (یعنی بھانجے کو حق میراث پہنچتا ہے)۔د - ایک اور روایت ہے :- الْغَالُ وَارِثُ مَنْ لا وَارِثَ لَه شم سورۃ الانفال آیت ۷۶ له سورة النساء آیت 9 سے شریفیہ شرح سراجی طلا که صحیح بخاری کتاب الفرائض ۹۹ ث ابن ماجه کتاب الفرائض جلدا ما