فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 128
۱۲۸ یعنی جس کا اور کوئی وارث نہیں تو پھر اس کا وارث اس کا ماموں ہوتا ہے۔پس قرآن پاک اور سنت و حدیث سے ثابت ہے کہ جب ذوی الفروض اور عصبات میں سے کوئی بھی موجود نہ ہو تو ترکہ ذوی الارحام میں تقسیم ہوتا ہے تاہم خاوند اور بیوی ذوی الارحام کی توریت میں روک نہیں۔یعنی اگر خاوند یا بیوی زندہ ہو تو ان کی موجودگی میں ذوی الارحام کو باقی ترکہ ملے گا جبکہ دوسرے تمام ذوی الفروض ذوی الارحام کی توریت میں روک ہیں۔ذوی الارحام کے درجے عصبات کی طرح ذوی الارحام میں ترکہ کی تقسیم الأَقْرَبُ فَالا قرب" کے اصول کے تحت ہوگی۔ذوی الارحام کے چار درجے ہیں۔ا۔متوفی کی اپنی اولاد (جو نہ ذوی الفروض میں سے ہو اور نہ عصبات میں سے ، مثلاً نواسہ، نواسی اور پوتیوں کی اولا در -۲- متوفی کی اصل یعنی آبا ؤ اجداد جو نہ ذوی الفروض میں سے ہوں اور نہ عصبات میں سے ) مثلاً نانا، باپ کا نانا ، دادی کا باپ، ماں کا دادا وغیرہ۔متوفی نیے والدین کی اولاد رجونہ ذوی الفروض میں سے ہوا اور نہ عصبات میں سے ، مثلاً بھانجا تو بھانجی بھتیجی وغیرہ۔۴۔متوفی کے دادا اور نانی کی اولاد (جو نہ ذوی الفروض میں سے ہو اور نہ عصبات میں سے، مثلاً پھوپھی ، ماموں، خالہ۔پہلے درجے کے ذوی الارحام دوسرے ، تیسرے اور چوتھے درجے کے ذوی الارحام پر مقدم ہوں گے۔اسی طرح اگر پہلے درجے میں کوئی بھی موجود نہ ہو تو دوسرے درجہ کے ذوی الارحام تیسرے اور چوتھے درجہ کے ذوی الارحام پر مقدم ہوں گے۔وعلی ہذا القیاس۔