فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 126
۱۲۶ بات پنجم عصبات کے حصے اگر ذوی الفروض موجود نہ ہوں تو کل ترکہ عصبات کو ملتا ہے۔ب۔اگر ذوی الفروض موجود ہوں تو ان کے حصص کی ادائیگی کے بعد بقیہ عصبات کو ملتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " الْحِقُوا الْفَرَائِضَ بِأَهْلِهَا فَمَا بَقِيَ فَهُوَ لا ولى رَجُلٍ ذکر ہے یعنی پہلے ذوی الفروض کو ان کے حصے دو اس کے بعد جو باقی بچے وہ توٹی کے قریبی مرد رشتہ دار کو دو۔باب ششم ذوی الارحام ذوی الارحام سے مراد وہ رحمی رشتہ دار ہیں جن کا شمار نہ تو ذوی الفروض میں ہو اور نہ ہی عصبات میں مثلا نواسہ ، نواسی بھانجا، بھانجی ، پھوپھی ، خالہ ، نانا ، ماموں وغیرہ۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے :- ل صحیح بخاری کتاب الفرائض باب ميراث الولد من أبيه و امه جلد ثانی 996