فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 116
إلى من التمييز هُوَ الْوَاجِبُ مِنْ غَيْرِ فَرْق بين الذكر والأنثى له یعنی حضانت سے متعلق جو احادیث مروی ہیں اُن سے ظاہر ہوتا ہے کہ سن تمیز کو پہنچنے والے بچے کو ماں باپ میں سے اپنا نگران منتخب کرنے کا اختیار دینا واجب ہے خواہ بچہ لڑکا ہو یا لڑکی۔ایک اور جگہ وہ لکھتے ہیں :۔قِيلَ أَنَّ التَّنْبِيرَ أولى لِاِتِّفَاقِ الْفَاظِ الْأَحَادِيثِ عَلَيْهِ وَعَمَلِ الْخُلَفَاءِ الراشدين له یعنی ممیز بچہ کو انتخاب کا اختیار دینا زیادہ مناسب اور اولیٰ ہے کیونکہ احادیث کے الفاظ اور خلفاء راشدین کا عمل اس پر متفق ہیں۔له له نيل الأوطار باب من احق بكفالة الطفل جلد ٦ ۳۳۱