فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 117
114 باب اول وراثت کے مسائل ترکہ کیسی شخصکی وفات پر اس کا امام اور فی تولہ جائیداد ترکہ کھلاتی ہے۔وفات پر اس منظور وغیر منقولہ ترکہ۔جب انسان فوت ہو جاتا ہے اور اپنا کچھ بال بطور ترکہ چھوڑ جاتا ہے تو اس ترکہ کو کیا کیا جائے یہ ایک عالمگیر سوال ہے مذاہب عالم نے اس نے مختلف جواب دیئے ہیں اس سلسلہ میں اسلام نے جو جواب دیا ہے اس کا مختصر ذکر درج ذیل ہے :- تجهیز و تکفین ، قرض اور وصیت کی ادائیگی جو ترکہ کسی متوفی نے چھوڑا ہے اسے اس کے وارثوں میں تقسیم کرنے سے پہلے اس میں سے على الترتيب مندرجہ ذیل ادائیگیاں کی جائیں گی :- تجہیز و تکفین کے مصارف ۲ - قرض کی ادائیگی ۳ - وصیت کی ادائیگی میت کے ترکہ میں سے سب سے پہلے اس کی تجہیز و تکفین کے اخراجات ادا کئے جائیں گے تجہیز و تکفین ساده معروف رنگ میں سنت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق کی جائے گی۔اگر متوفی کا ترکہ تجہیز و تکفین کے اخراجات کے لئے مکتفی نہ ہو تو حسب ضرورت یہ اخراجات بیت المال یا قومی مرکزی فنڈ سے دو ہوں یعنی معاشرہ بحیثیت مجموعی ان اخراجات کا ذمہ دار ہوگا۔۲- قرض کی ادائیگی اگر متوفی کے ذمہ قرض ہو تو تجہیز و تکفین کے اخراجات کے بعد جو کچھ باقی بچے اس میں سے سب سے پہلے قرض ادا کیا جائے گا۔مہر بھی خاوند کے ذمہ واجب الادا قرض ہے۔