فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء)

by Other Authors

Page 115 of 135

فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 115

۱۱۵ نمبر ۵۶ خیارالیم خيار التميز بار ۱ - سن تمیز کو پہنچنے کے بعد بچے کی اپنی مرضی کا استعمال خيار التمییز کہلاتا ہے۔ب بچے کا حق خیار التمیز بذریعہ قضاء نافذ ہوگا اور ہر صورت میں بچے کی بہبود کے تابع ہوگا۔ج - ایسی صورت میں نان و نفقہ کی ذمہ داری کی تعیین قضاء کرے گی۔تشریح بچے کی عمر نو سال ہو جانے پر حق حضانت ختم ہو جائے گا اور بچہ باپ کو لوٹا دیا جائے گا۔البتہ اگر بچے کا مفاد تقاضا کرے اور بچے کی اپنی مرضی بھی حاضنہ کے پاس رہنے کی ہو تو بچے کو یہ اختیار دیا جا سکتا ہے کہ وہ جس کے پاس چاہے رہے البتہ بچے کا یہ اختیار قاضی کے فیصلہ کے تابع ہوگا اگر بچہ غلط نگران کو منتخب کرے تو بچے کی بہبود کے پیش نظر قاضی اس میں تبدیلی کر سکتا ہے۔ایک ایسے ہی تنازعہ میں بچے نے باپ کے پاس رہنے کو ترجیح دی چھان بین پر معلوم ہوا کہ بچہ کھلنڈرا ہے اور ماں تعلیم پر زور دیتی ہے جبکہ باپ کو اس کی پرواہ نہیں اور اس وجہ سے بچہ باپ کے پاس جانے کو ترجیح دیتا ہے ایسی صورت میں قاضی نے بحیہ کو ماں کے حوالے کر دیائیے ۲۔بچے کی عمر تمیز کو پہنچنے کے بعد جتنے معاملات بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا آپ کے خلفاء راشدین کے سامنے آئے اور جن کو تاریخ نے محفوظ رکھا ان سب میں ممیز بچے کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ چاہے تو باپ کے پاس رہے چاہے تو ماں کے پاس۔ایسے واقعات کی نشاندہی کرنے کے بعد صاحب نیل الاوطار لکھتے ہیں :۔الظَّاهِرُ مِنْ اَحَادِيثِ الْبَابِ اَنَّ التَّخَيرَ فِي حَقٌّ مَنْ بَلَغَ مِنَ الْأَوْلَادِ له نيل الأوطار باب من احق بكفالة الطفل جلده ۳۳۲