فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء)

by Other Authors

Page 107 of 135

فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 107

دفعہ نمبر ۴۶ 1۔4 بیوہ عدت وفات اور اس کے بعد ایک سال تک اپنے مرحوم خاوند کے مکان میں سکونت کا حق رکھتی ہے خواہ وہ مکان ترکہ میں کستی دیگر وارث کے حصہ میں آیا ہو۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے: وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا هِ ۖ وَصِيَّةً لِازْوَجِهِمْ مَتَاعًا إِلَى الْحَوْلِ غَيْرَ اِخْرَاجِ ، فَإِنْ خَرَجْنَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِي مَا فَعَلْنَ فِي أَنْفُسِهِنَّ مِن مَّعْرُونٍ وَاللهُ عَزِيزٌ حَكِيمه یعنی تم میں سے جو لوگ وفات پا جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں وہ اپنی بیویوں کے حق میں ایک سال تک فائدہ پہنچانے یعنی ان کے گھروں سے نہ نکالنے کی وصیت کر جائیں لیکن اگر وہ خود بخود چلی جائیں تو وہ اپنے متعلق جو پسندیدہ بات کریں اس کا تمہیں کوئی گناہ نہیں اور اللہ تعالیٰ غالب حکمت والا ہے۔سید نا حضرت مصلح موعود اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :- " بعض نے کہا ہے کہ یہ آیت احکام میراث کے ذریعہ منسوخ ہو گئی ہے مگر یہ بالکل غلط ہے۔بیوہ کا اپنے خاوند کی جائیداد میں جو حصہ رکھا گیا ہے اس کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں یہ ایک الگ حکم ہے جس میں جائیداد کے حصہ کے علاوہ عورت کے لئے سال بھر کے نان و نفقہ اور رہائش کا انتظام ضروری قرار دیا گیا ہے۔۔۔۔یہ ان سے نیک سلوک کرنے کا ایک زائد حکم دیا گیا ہے۔“ کے علامہ حقاص اپنی مشہور کتاب احکام القرآن میں بیوہ کے نفقہ پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں :- روَى الشَّعْبِيُّ عَنْ عَلَى وَعَبْدِ اللهِ قَالَا إِذَا مَاتَ عَنْهَا زَوْجَهَا فَتَفْقَتُهَا مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ له یعنی حضرت علی اور عبد اللہ بن عباس دونوں نے کہا ہے بیوہ کا نفقہ (بطور احسان) کل ترکہ سے ادا ہو گا۔ل سورة البقره آیت ۲۴۱ ۴۹۸ س تفسير كبير سورة البقرة من ۵۲ کے احکام القرآن للجصاص خدا نیز دیکھیں قرطبی ص ۲۳ مطبوعہ مصر ۶۱۹۶۶