فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء)

by Other Authors

Page 106 of 135

فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 106

1۔4 دفعہ نمبر ۴۵ نان و نفقہ ادا کرنے کی ذمہ داری بصورت طلاق ایام عدت تک قائم رہتی ہے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے: اسكنُوهُنَّ مِنْ حَيْتُ سَكَنْتُمْ مِنْ وَجْدِكُمْ وَلَا تُضَارَ وهُنَّ لِتُفَيَقُوا عليمن یعنی مطلقہ عورتوں کے حق کو نہ بھولو ان کو وہیں رکھو جہاں تم اپنی طاقت کے مطابق رہتے ہو اور ان کو کسی قسم کا ضرر نہ دو اس طرح کہ ان کو تنگ کر کے گھر سے نکال دو۔تشریح چونکہ عدت کے دوران خاوند اور بیوی کا تعلق اس حد تک قائم رہتا ہے کہ خاوند عدت کے دوران رجوع کر سکتا ہے اور اگر طلاق بائن ہے تو بھی عورت عدت کے دوران کسی دوسری جگہ شادی نہیں کر سکتی اس لئے عدت کے عرصہ کے لئے خاوند پر بیوی کا نان و نفقہ واجب ہے اگرچہ بعض روایات اس کے خلاف بھی ہیں مگر احسان کے نزدیک یہ امر مسلمہ ہے کہ اگر کوئی اپنی بیوی کو طلاق دے دے خواہ وہ رجعی ہو یا بائن مرد پر عدت کے دوران کا نان ونفقہ واجب ہے۔اس بارہ میں صاحب فتح القدیر لکھتے ہیں :- إذا طَلقَ الرّجُلُ امْرَأَتَهُ فَلَهَا التَّفَقَةُ له یعنی جب کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دے دے تو وہ عدت کے دوران نفقہ لینے کی حقدار ہے۔عدت وفات کے ایام میں بیوہ کا نفقہ حتماً واجب نہیں کیونکہ مرنے والے کی اپنے مال پر ملکیت ختم ہو جاتی ہے اور متوفی کا مال ترکہ کی صورت میں دیگر ورثاء کے پاس جا چکا ہوتا ہے اور بیو بھی اپنے حصہ کے مطابق ترکہ کی وارث ہو چکی ہوتی ہے البتہ جیسا کہ دفعہ نمبر ۶ہ سے ظاہر ہے بطور حسن سلوک ایک سال تک رہائش مہیا کرنے کی وصیت کرنا ضروری ہے۔ے سورۃ الطلاق آیت فتح القدير ص ۳۳۹