فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 99
99 مدت گذرنے پر عورت کو اختیار ہو گا کہ وہ بذریعہ عدالت فسخ نکاح کا مطالبہ کرے۔مریضہ بیوی بعض اوقات عورت میں کوئی ایسا عیب ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ وظیفہ زوجیت کے ادا کرنے کی اہل نہیں ہوتی مثلاً وہ آتشک یا جذام کی مریضہ ہے، مہلک تپ دق میں مبتلا ہے اس میں قرن یا رتی کا عیب ہے اور نکاح کے وقت مرد کو عورت کے ان عیوب کا علم نہیں ہو سکا اس کا علم اسے شادی کے بعد ہوا اس صورت میں خاوند قاضی کے سامنے صورتِ حال بیان کر کے فسخ نکاح کا مطالبہ کو سکتا ہے۔بے شک خاوند اپنی ایسی بیوی کو طلاق بھی دے سکتا ہے لیکن اس صورت میں اسے مہر ادا کرنا پڑے گا لیکن اگر وہ اس عذر کی بناء پر قاضی کے ذریعہ نکاح فسخ کر ائے تو اسے مرادانہیں کرنا پڑے گا۔دفعہ نمبر ۴۳ نکاح صحیح ہو یا فاسد جب وہ خلوت صحیحہ کے بعد کسی وجہ سے ختم ہو یا خاوند کی وفات ہو جائے تو اس طرح نکاح کے ختم ہونے کے بعد عورات ایک مدت معینہ گزارتی ہے اور اس عرصہ کو عدت کہتے ہیں۔قرین : عورت کی شرمگاہ میں سینگ کی طرز کی اُبھری ہوئی ہڈی کا ہونا جس کی وجہ سے وہ جماع کے ناقابل ہوتی ہے۔رتو : شرمگاہ کے اندرونی حصہ کا مضبوط جھلی کی وجہ سے بند ہو جانا۔اس وجہ سے بھی وہ جماع کے قابل نہیں رہتی۔