فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 98
۹۸ سے مختلف ہدتیں مقرر کی ہیں اور اس بارے میں تفاوت یہاں تک پایا جاتا ہے کہ جہاں بعض فقہاء نے ایک سال کی مدت مقرر کی ہے وہاں بعض دوسرے فقہاء اس عرصہ انتظار کو تو نے سال تک لے گئے ہیں لیے موجودہ ترقی یافتہ ذرائع مواصلات کے پیش نظر فقہ احمدیہ کے مطابق خاوند کے مفقود الخبر ہونے کی بناء پر علیحدگی کے لئے کوئی خاص مدت مقرر کرنا ضروری نہیں تاہم احتیاط کے تقاضہ کے پیش نظر عدالت کی طرف سے کم از کم دو سال کی مدت مقرر کر دی جائے تو مناسب ہوگا۔بهر حال مناسب یہ ہے کہ آخری فیصلہ قاضی یا عدالت مجاز کے اختیار میں ہو۔حالات کے۔مطابق جتنا وصہ وہ مناسب خیال کرے اتنا عرصہ انتظار کے بعد مفقود الخبر کا نکاح منسوخ کر کے دوسری جگہ نکاح کرنے کی اجازت دے دے۔۲۔ایلاء اور ظہار :- ایلاء یہ ہے کہ خاوند قسم کھائے کہ وہ عورت سے ازدواجی تعلقات قائم نہیں کرے گا۔اس صورت میں مرد کو چار ماہ تک مہلت دی جائے گی کہ اس مدت کے دوران وہ اپنی قسم توڑ کر بیوی کے حقوق زوجیت ادا کرے ورنہ بیوی کو اختیار ہو گا کہ چار ماہ کی مدت گزرنے پر بذریعہ عدالت فسخ نکاح کا مطالبہ کر ہے۔ب : ظہار یہ ہے کہ مرد اپنی بیوی کو اپنی ماں کی طرح قرار دئے۔عرب اس کے لئے یہ محاورہ استعمال کرتے تھے " انتِ عَلَى ظَهْرِ اُمی ایسی صورت میں بھی خاوند کو مجبور کیا جائے گا کہ وہ چار ماہ مدت کے اندر اپنی اس قسم کا کفارہ ہے ادا کر کے بیوی کے حقوق ادا کرے ورنہ چار ماہ کی له الاسرة في الشرع الاسلامي باب المفقوده مطبوعه بيروت ۱۹ مولفه عمر فروخ - جامع الضروريات لانواع المعاملات من مولفه محمد عبد الباقى الافغاني ت قسم توڑنے کا کفارہ دس مساکین کوکھانا کھلانا یا لباس پہنانا ہے اور اگر یہ نہ کرسکے تو تین روزے رکھنا ہے ایلاء کا ذکر قرآن کریم کی سورۃ البقرہ آیت نمبر ۲۲۷ میں ہے۔ے ظہار اور کفارہ کا ذکر قرآن کریم ک سورہ مجادلہ آیت سوتاہ میں ہے اور اس کا کفارہ یہ ہے کہ تعلق زوجیت قائم کرنے سے پہلے خاوند مسلسل دو ماہ کے روزے رکھے اور اگریہ نہ کر سکے تو ساٹھ مساکین کو کھانا کھلائے۔