فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 100
تشریح : اللہ تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے :- النَّبِيُّ إِذَا طَلَقْتُمُ النِّسَاء فَطَلِقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَاحْصُوا الْعِدَّةَ وَاتَّقُوا اللهَ رَبِّكُمْ۔له یعنی اے نبی اور اس کے مانے والوجب تم بیویوں کو طلاق دو تو ان کو مقررہ وقت کے مطابق طلاق دو اور طلاق کے بعد وقت عزت کا اندازہ رکھو اور اللہ کا جو تمہارارت ہے تقوی اختیار کرو۔اسی طرح ایک اور جگہ عدت کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا :- وَالْمُطَلَّقْتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَثَةَ قُرُوءٍ له یعنی جن عورتوں کو طلاق مل جائے وہ تین بار حیض آنے تک اپنے آپ کو روکے رکھیں۔عدت کے دوران نکاح کا معاملہ نہ کرنے کا حکم اس آیت سے بھی ثابت ہے :- وَلَا تَعْزِمُوا عُقْدَةَ النِّكَاحِ حَتَّى يَبْلُغَ الْكِتَبُ أَجَلَهُ - س یعنی جب تک عدت کا حکم اپنی میعاد کو نہ پہنچ جائے اس وقت تک تم نکاح باندھنے کا پختہ ارادہ نہ کرو۔: نکاح کے بعد اور خلوت صحیحہ سے پہلے اگر میاں بیوی میں طلاق ، خلع یا فسخ کے ذریعہ جدائی ہو گئی ہو تو عورت پر کوئی عدت نہیں۔وہ جدائی کے بعد کسی وقت بھی دوسرے مرد سے نکاح کر سکتی ہے۔اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے :۔إذا نعم المُؤْمِتِ ثُمَّ طَلَقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ فَمَالَكُمْ نَكَعْتُمُ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّ ونَهَا - له یعنی جب تم مومن عورتوں سے شادی کرو پھر ان کے چھونے سے پہلے طلاق دے دو تو تم کو کوئی حق نہیں کہ ان سے عدت کا مطالبہ کرو۔ب :۔نکاح صحیح ہو یا فاسد اگر اس کے بعد خلوت صحیحہ میسر آجائے اور پھر کسی وجہ سے بھدائی نے سورة الطلاق آیت ۲ سے سورۃ البقرہ آیت ۲۳۶ سورة البقره آیت ۲۲۹ سے سورۃ الاحزاب آیت ۵۰