فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء)

by Other Authors

Page 97 of 135

فقہ احمدیہ (حصہ دوم مشتمل بر احکام شخصیّہ۔ پرسنل لاء) — Page 97

94 11 - عورت دائم المریض ہو یا کسی اور وجہ سے وظیفہ زوجیت ادا کرنے کی اہل نہ ہو اور یہ ثابت ہو کہ یہ عیوب اس میں نکاح سے قبل پائے جاتے تھے۔تشریح :- فسخ اور طلاق میں فرق یہ ہے کہ طلاق خاوند کی طرف سے دی جاتی ہے اس صورت میں مهر بالعموم خاوند کے ذمہ واجب الا وا ہوتا ہے اور اس کی عدت تین حیض با تین ماہ یا وضع حمل ہوتی ہے لیے لیکن فسخ کا تعلق خاوند کے ساتھ نہیں ہوتا بلکہ قاضی بیوی یا میاں یا کسی اور کی درخواست پر علیحدگی کا فیصلہ دیتا ہے اور اس کی عدت صرف ایک حیض یا ایک ماہ یا وضع حمل ہوتی ہے۔فسخ کی بعض صورتوں میں عورت علیحدگی بھی حاصل کرتی ہے اور مہر کی حقدار بھی ہوتی ہے اور بعض صورتوں میں خاوند مہر ادا کرنے کا ذمہ دار نہیں ہوتا مثلاً بیوی میں بعض ایسے جسمانی عوارض ہوں جو وظیفہ زوجیت کی ادائیگی میں مانع ہوں مثلاً رتق وغیرہ کی وجہ سے اگر نکاح فسخ ہو تو مردمہر ادا کرنے کا ذمہ دار نہ ہوگا۔اگر علیحدگی میں عورت کا کوئی قصور نہ ہو بلکہ مرد کے کسی جسمانی عیب یا نقص کی وجہ سے فسخ نکاح ہوا ہو تو مردمہر ادا کرنے کا ذمہ دار ہوگا۔فسخ نکاح کی صورت میں علیحد گی طلاق بائن کے حکم میں ہوتی ہے سوائے لعان کے کیونکہ اس صورت میں علیحد گی ایسی دائمی طلاق کے حکم میں ہوتی ہے جس کے بعد کسی صورت میں بھی دوبارہ نکاح مذکورہ بالا وجوہات فسنح میں سے بعض کی تشریحات درج ذیل ہیں :- بجائز نہیں ہوتا۔ا مفقود الخبر اس سلسلہ میں دو امور پر بحث کی جاتی ہے :- ا - مفقود الخبر کے ورثے کی تقسیم - ب - مفقود الخبر کی زوجہ کا کسی دوسرے شخص سے نکاح کرنا۔زیر بحث دفعہ میں اس وقت شق "ب " مد نظر ہے مفقود الخبر ہونے کی بناء پر فسخ نکاح کیلئے کیسی مدت کی تعیین کی کوئی نص موجود نہیں یہی وجہ ہے کہ فقہاء نے زمانہ کے حالات کے مطابق اندازے لے دیکھیں واقعہ نمبر ۴۳