فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 91 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 91

۹۱ کی وحدانیت کے متعلق زبانی شہادت کے ساتھ عملی شہادت بھی ہے۔جب وہ کہتا ہے کوئی ہمارا معبود نہیں تو اس نفی کی عملی تائید میں اپنی انگلی اٹھاتا ہے۔اور پھر جب وہ کہتا ہے مگر صرف اللہ ہی سچا معبود ہے تو اس اثبات کی عملی تائید میں اپنی انگلی نیچے رکھ دیتا ہے۔جیسے انسان بات کرتے ہوئے عادتاً ساتھ ساتھ اپنے ہاتھ یا سر بھی ہلاتا جاتا ہے۔(۱۱) آخری قعدہ :- نمازہ کی ساری رکھتیں پڑھنے کے بعد آخر میں مذکورہ بالا طریق جس کا ذکر جلسہ بين السجدتین میں ہو چکا ہے کے مطابق بیٹھنا آخری قعدہ کہلاتا ہے۔یہ نماز کا ضروری رکن اور فرض ہے۔اس قعدہ میں تشہد کے علاوہ درود شریف اور مسنون دعائیں بھی پڑھی جاتی ہیں اس کے بعد سلام پھیرتے ہیں جس میں یہ نیت ہونی چاہیئے کہ جو انسان اور فرشتے میری دائیں طرف ہیں ان کو سلام ہوا اور جو بائیں طرف ہیں ان کو بھی سلام ہوگو یا نمازی پہلے انت تعالی کے دربار میں گیا ہو ا تھا اور اب وہاں سے باہر نکل کر اپنے ملنے والوں کے پاس آیا ہے اور ان کو سلام کہتا ہے۔(۳) نماز پڑھنے کا طریق“ میں جو باتیں بیان ہوئی ہیں اُن میں بعض باتیں انتہائی اہم اور رکن کی حیثیت رکھتی ہیں اور بعض کی اتنی اہمیت نہیں اس لحاظ سے تفصیلی تجزیہ مندجہ ذیل ہے۔(۱) ارکان نماز ا الکان سکن کی جمع ہے۔رکن نماز کے اہم اور ضروری حصہ کو کہتے ہیں۔نماز کے ارکان سات ہیں تکبیر تحریمہ قیام - قرأت - رکوع - دو سجدے۔آخری قعدہ اور سلام۔ان میں ہر ایک کا کرنا فرض اور ضروری ہے۔اگر جان بوجھ کر چھوڑے تو نمانہ دوبارہ پڑھے اور اگر بھول کر یا غلطی سے رہ جائے تو اسے آخری قعدہ سے پہلے ادا کیا جائے اور پھر آخری تشہد میں مسنون دعاؤں کے بعد سجدہ سہو کیا جائے۔مثلاً کوئی بھول گیا اور دو سجدوں کی بجائے ایک ہی سجدہ کیا اور بعد میں یاد آیا تو پہلے یہ سجدہ کیا جائے اس کے بعد سلام پھیرا جائے اگر تشہد وغیرہ پڑھنے بلکہ سلام پھیرنے کے بعد یاد آئے تو بھی لے تب سندی :