فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 90
9۔پیشانی زمین پر رکھے۔اسی طرح اس کے دونوں پاؤں بھی زمین سے لگے ہوئے ہوں ہاتھ اور پاؤں کی انگلیاں قبلہ رخ ہوں۔چہرہ دونوں ہاتھوں کے درمیان ہو۔کہنیاں زمین سے کسی قدیر اکٹھی ہوئی اور بازو پہلوؤں سے الگ ہوں پیٹر ان کے ساتھ لگا ہوا نہ ہو اگر بیماری یا غذر کی وجہ سے اس طرح پر سجدہ نہ کر سکے تو جتنا ہو سکے اتنے سر کو جھکا دینے سے سجدہ اور ہو جائے گا۔سجدہ اللہ تعالیٰ کے حضور تذلل اور اظہار معجز و انکسار کا انتہائی مقام ہے۔یہ حالت قرب الہی اور قبولیت دعا سے خاص مناسبت رکھتی ہے اس لئے سجدہ میں تسبیحات کے علاوہ حسب مرضی و مناسبت وقت بکثرت دعائیں کرنا سنتِ رسول سے ثابت ہے۔(6) جلسہ :- پہلے سجدہ کے بعد نگیر کہتے ہوئے اُٹھ کر بیٹھنے کو جلسہ کہتے ہیں۔یہ واجب ہے بایاں پاؤں بچھا کر اُس پر بیٹھے اور دایاں پاؤں کھڑا رکھے اس کی انگلیاں قبلہ رخ ہوں دونوں ہاتھ رانوں پر گھٹنوں کے قریب ہوں۔ان کی انگلیاں بھی عام طبعی حالت میں نہ بہت کشادہ نہ بہت بند ، سیدھی قبلہ رخ ہوں۔اگر بوجہ بیماری را معذوری کوئی اس طرح نہ بیٹھ سکے تو دونوں پاؤں بجھا کر یا کھڑے کر کے یا چوکڑی مار کر یا پاؤں آگے کر کے جیسے سہولت ہو بیٹھ سکتا ہے۔کچھ لمحے اس طرح بیٹھنے کے بعد دوسرا سجدہ کیا جائے۔(۸) رکعت :- حسب وضاحت بالا قیام ، قرأت ، رکوع ، قومہ اور دونوں سجدوں کے مجموعہ کو رکعت کہتے ہیں۔کوئی نماز دو رکعتوں سے کم نہیں ہوتی۔یسے اوپر - (۹) درمیانی قعدہ : اگر نماز تین یا چار رکعت کی ہو تو دور کعتیں پڑھنے کے بعد اس طرح بیٹھنا جلسه بین السجدتین میں بیان ہوا ہے۔درمیانی قعدہ کہلاتا ہے یہ واجب ہے درمیانی قعدہ میں صرف تشہد پڑھتے ہیں۔اس کے بعد نمازی تکبیر کہتے ہوئے تیسری رکعت پڑھنے کے لئے کھڑا ہو جائے۔(۱۰) اشارہ یا رفع سبابہ : تشہد پڑھتے ہوئے جب شہادت توحید کے مقام پر پہنچے تو لا اللہ کہنے پر شہادت کی انگلی اٹھائے اور الا اللہ کہنے پر رکھ رہے یہ سنت ہے اس کا ایک طریق جو سنت کے مطابق ہے یہ ہے کہ انگلی اُٹھاتے وقت انگوٹھے اور درمیانی انگلی کا حلقہ بنائے اور چھنگلی اور اس کے ساتھ کی انگلی کو بھی موڑے جیسے گرہ بنائی جاتی ہے اور اس کے ساتھ ہی شہادت کی انگلی مذکورہ الفاظ کے مطابق اٹھائے اور رکھے۔یہ گویا للہ تعالے