فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 92 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 92

۹۴ ایسا ہی کرسے لینی پہلے اس بھولے ہوئے رکن کو ادا کر ہے۔پھر آخری قعدہ کا تشہد درود شریف وغیرہ پڑھے پھر سجدہ سہو کر سے اور اس کے بعد سلام پھیر سے لیے (۲) واجبات نماز واجب نماز کے ضروری حصے کو کہتے ہیں لیکن رکن سے اس کی اہمیت کسی قدر کم ہے۔نماز کے واجبات بارہ ہیں۔(۱) سورہ فاتحہ پڑھنا (۲) ضم سورۃ یعنی فرضوں کی پہلی دو رکعتوں میں اور سن و نوافل کی ساری رکھتوں میں سورۃ فاتحہ کے ساتھ قرآن پاک کا کچھ اور حصہ پڑھنا خواہ پوری سورۃ ہو یا اس کا کوئی حصہ (۳) آمین کہنا۔(۴) رکوع کے بعد سیدھے کھڑے ہونا یعنی قومہ - (۵) پہلے سجدہ کے بعد بیٹھنا یعنی جلسہ - (4) ڈور کعتیں پڑھنے کے بعد بیٹھنا۔یعنی درمیانی قعدہ - (6) قعدہ خواہ درمیانی ہو یا آخری اس میں تشہد پڑھنا۔(۸) اسلام کے وقت منہ دائیں اور بائیں پھیرنا۔(۹) ہر ین کو شہر ٹھہر کر پورے وقار طمانیت اور آرام سے ادا کرنا۔((و) رکن جسے تعدیل ارکان کہتے ہیں۔(1) ہر رکن کو اپنی پنی جگہ ترتیب سے ادا کرنا جو پہلے ہے اُسے پہلے اور جو بعد میں اُسے بعد میں۔اسے ترتیب ارکان کہتے ہیں۔دار) نماز با جماعت کی صورت میں مغرب اور عشاء کی پہلی دو رکعتوں میں اور فجر جمعہ۔عیدین کی ساری رکھتوں میں امام کا سورۃ فاتحہ اور دوسری قرأت کو بلند آواز سے پڑھنا اور ظہر و عصر کی ساری رکعتوں میں قرائت آہستہ آورانہ سے پڑھنا نیز (۱۲) امام کے لئے تکبیر تحریمہ بلند آواز سے کہنا۔- ان واجبات میں سے اگر کوئی واجب جان بوجھ کہ عمداً چھوڑ دے تو نمازہ نہیں ہوگی اگر بھول سے بہہ جائے تو اس کے تدارک کے طور پر آخر میں سجدہ سہو کیا جائے۔مثلاً در میانی قعدہ بھول گیا یا غلطی سے رکوع کے بعد سیدھا کھڑا ہوئے بغیر سجدہ میں چلا گیا تو اس قسم کی بھول یا غلطی کا تدارک صرف سجدہ سہو کرنے سے ہو جائے گا۔گویا رکن اور واجب میں یہ فرق ہے کہ رکن اگر بھول سے رہ جائے تو اُسے ادا کرنا ضروری ہوتا ہے۔اور پھر اس کے ساتھ سجدہ سہو بھی کرنا پڑتا ہے۔لیکن اگر واجب رہ جائے تو پھر اس کے ادا کرنے کی ضرورت نہیں اس کی بجائے صرف سجدہ سہو کر لینا کافی ہے۔(۳) سنون نماز سنن سنت کی جمع ہے۔اسنت سے مراد نماز کا وہ حصہ ہے جیسی کرنے سے ثواب ملتا ہے۔