فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 68
نماز کی پوتھی شرط ۶۸ نماز میں قبلہ کی طرف منہ کرنا ضروری ہے۔قبلہ سے مراد وہ مقدس کمرہ ہے جو مکہ مکرمہ میں موجود ہے جسے کعبہ اور بیت اللہ یعنی اللہ تعالی کا گھر بھی کہتے ہیں۔پتھر کی بنی ہوئی یہ عمارت سیاہ نزنگ کے ریشمی غلاف سے ڈھکی رہتی ہے۔اس کی لمبائی ۲۴ فٹ چوڑائی ۳۳ فٹ اور اونچائی ۴۵ فٹ کے قریب ہے۔اس کا دروازہ زمین سے سات فٹ بلند ہے اور چاہ زمزم کی طرف کھلتا ہے۔اس کے اردگر د گول دائرہ کی شکل میں ایک وسیع مسجد ہے جسے المسجد الحرام کہتے ہیں۔دنیا کی تمام مساجد اسی مسجد کے تابع اور اس کا ظل ہیں۔بیت اللہ سے یہ مراد نہیں کہ نعوذ باللہ اللہ تعالیٰ اس مکان میں رہتا ہے۔وہ تو لا مکاں اور گھر کی احتیاج سے منزہ اور پاک ہے بلکہ اس مقدس کمرہ کو بیت اللہ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جب سے مذہب کی ابتداء ہوئی دنیا میں یہ پہلی عمارت ہے جو خالص اللہ تعالٰی کی عبادت کی خاطر بنائی گئی۔روایت ہے کہ یہ مقدس عمارت تمام انبیاء کا قبلہ رہی حضرت آدم علیہ السلام اور دوسرے انبیاء نے اس کا نتیج کیا۔حضرت ابراہیم علیہ اسلام سے پہلے کسی وقت یہ عمارت منہدم ہوگئی اور اس کے اردگرد جو آبادی تھی وہ بھی اجڑ گئی۔اللہ تعالیٰ کی طرف سے اشارہ پا کر حضرت ابراہیم علیہ اسلام نے اپنے پلوٹھے بیٹے حضرت اسمعیل علیہ السلام اور ان کی والدہ حضر ہاجرہ کو اس جگہ لا بسایا اور بالہام الہی باپ بیٹے دونوں نے مل کر یہ مقدس عمارت اپنی پہلی بنیادوں پر دوبارہ تعمیر کی۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب تک آباد ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب تک مکہ میں رہے اس کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرتے رہے۔مدینہ میں ہجرت کہ آنے کے بعد چند ماہ بیت المقدس دواقعہ فلسطین کی طرف آپ نے منہ کیا اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مستقل طور پر کعبہ کی طرف منہ کرنے کا آپ کو حکم دیا۔کیونکہ الہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق اسی مقدس مکان نے ہمیشہ ہمیش کے لئے عبادت انہی کا دائمی مرکزہ مسلمانان عالم کی توجہات کا مرجع اور ان کے اجتماع و اتحاد کا مقدس نشان بننا تھا۔چنانچہ اس وقت سے یہ مقدس گھر مسلمانوں کا دائمی قبلہ ہے اور حکم الہی نا روز قیامت امت مسلمہ کا قبلہ رہے گا۔زادھا اللہ شرفا وعظمة - ه آل عمران : ۹۶ : سه طبری تاریخ الوفاء ۱ : ۳ بحواله الفضل ۲۳ را پریل مستشار به : - بقه : ۱۲۶