فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 69
49 جو لوگ مسجد حرام میں نماز ادا کرتے ہیں یا کعبتہ اللہ انہیں نظر آتا ہے وہ نماز میں سیدھے ان کعبہ اللہ کی طرف منہ کریں۔یہی وجہ ہے کہ مسجد حرام میں کعبہ کے اردگرد نماز کی صفین گول دائرہ کی شکل میں ہوتی ہیں۔جن لوگوں کو کعبہ کی عمارت نظر نہیں آتی۔وہ دُور ہیں یا دوسرے ممالک میں رہتے ہیں اُن کا قبلہ کعبہ اور مسجد جہام کی جہت ہے اُن کے لئے عین عمارت کعبہ کی طرف منہ کرنا ضر ہے نہیں اور نہ ہی آسانی سے ایسا کرناممکن ہی ہے۔خوف کی حالت ہو یا انسان کسی ایسی سواری پر سفر کر رہا ہو جسے ٹھہرانا اس کے اپنے اختیار میں نہیں یا ٹھہرانا موجب حرج ہے اور چلتے ہوئے شیح قبلہ کی طرف منہ کرنا خاصہ مشکل ہے یا سفر ہوائی جہاز کا ہے یا کسی دوسرے سیارہ میں انسان جارہا ہے ایسی تمام صورتوں میں جدھر آسانی ہو اس طرف منہ کر کے نما نہ پڑھ لینا جائز ہے لیے یہی جہت اُس کے لئے بمنزلہ قبلہ متصور ہوگی۔اسی طرح اگر سواری میں بیٹھے بیٹھے قبلہ کی طرف منہ کر کے نماز شروع کی اور سواری کے چلنے کی وجہ سے اُس کا منہ کسی اور طرف ہو گیا تو اس سے نمازہ کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔اگر جہت قبلہ کا پتہ نہیں چلتا اور کوئی ایسا شخص بھی موجود نہیں جس سے پوچھا جا سکے تو اپنی سمجھ اور علم کے مطابق جدھر خیال جائے کہ قبلہ اس طرف ہے ادھر ہی منہ کر کے نماز پڑھ لی جائے۔پھر اگر نماز کے دوران میں پتہ لگ جائے کہ غلط جہت کی طرف منہ ہے تو نماز میں ہی صحیح جہت کی طرف منہ کر لیا جائے اور اگر نماز سے فارغ ہونے کے بعد اس غلطی کا پتہ چلے تو پھر دوبارہ نماز پڑھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ انسان نے اپنی سمجھ کے مطابق عمل کیا اس لئے جو نمانہ اس نے پڑھی وہ صحیح ہے۔کعبہ کی عمارت کے اندر فرض نماز پڑھنے یا اس کی چھت پر نماز پڑھنے کی کوئی سند نہیں ملتی۔اس لئے اسے جائز نہیں سمجھا گیا۔قبلہ کی حکمت نماز میں کعبہ کی طرف منہ کر نے کے یہ معنے نہیں کہ مسلمان نعوذ باللہ اس عمارت کی پرستش کرتے ہیں اور اُسے پوجتے ہیں۔مسلمان تو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں صرف اسی کو اپنا کارسانہ اور خالق و مالک مانتے ہیں۔در اصل کعبہ کو قبلہ مقرر کر نے میں یہ حکمت ہے کہ نماز ایک مخصوص اجتماعی عبادت ہے جس میں یک جہتی اور اتحاد عمل کو خاص طور پر ملحوظ رکھا گیا ہے تاکہ سب کی توجہ ایک طرف رہے۔اس لئے عام حالات میں نماز پڑھنے کے وقت اس مقام کو سمت اور قبلہ مقرر کیا گیا جسے توحید الہی کیلئے :- بقره : ۱۱۵