فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 66
امام مالک فرماتے ہیں۔اذا صلت المرأة وقد انكشف شعرها او ظهور قدميها تعید ما دامت فی الوقت - لیکن صحیح مسلک یہ ہے کہ نماز میں سر کے بالوں کو حتی الوسع چھپائے رکھو اور اگر بغیر ارادہ کے بالوں کا کچھ حصہ کھل جائے تو نماز صحیح ہو جائے گی۔پس جہاں یہ تنگ نظری ہے کہ اگر ایک بال بھی کھل جائے تو نماز باطل ہو جائے گی وہاں یہ بھی ناجائز اقدام ہے کہ ایسا دوپٹہ لیکر نماز پڑھی جائے کہ میں میں سے سر کے بال صاف دکھائی دیں۔مومن کا اصل کام یہ ہے کہ افراط اور تفریط دونوں سے نیچے۔اسلام نے یہ پسند کیا ہے کہ نماز وغیرہ کے مواقع پر سر پر ٹوپی یا پگڑی رکھی جائے۔سرنگا نہ ہو۔عورتوں کے متعلق علماء میں یہ اختلاف پایا جاتا ہے کہ اگر ان کے سر کے اگلے بال نگے ہوں تو آیا ان کی نماز ہو جاتی ہے یا نہیں۔پرانے فقہاء کا خیال ہے کہ ننگے سرمرد کی نماز بھی نہیں ہوتی لیکن ہمارے ہاں مسائل کی بنیاد چونکہ احادیث پر ہے اور احادیث میں ایسی مثالیں ملتی ہیں کہ بعض صحابہ نے نگے سر نماز پڑھی اس لیے ہم اس تشدد کے قائل نہیں کہ تنگے سر نمازہ ہوتی ہی نہیں ہمارے نزدیک اگر کسی کے پاس ٹوپی یا گھڑی نہ ہو اسی طرح سرڈھانکنے کے لیے کوئی رومال وغیرہ بھی اس کے پاس نہ ہو تو نگے سرنماز پڑھی جاسکتی ہے۔البتہ عورتوں کے لیے دوپٹہ کا ہونا ضروری ہے۔الفضل 9 فروری ۱۹۵۵ئه ) سوال:۔کیا ننگے سر نماز جائز ہے ؟ جواب:۔ایسی صورت میں ننگے سر نماز پڑھنا غلطی ہے جبکہ سرڈھانپنے کے لیے کوئی کپڑا وغیرہ موجود ہو۔منع نہیں کئی صحابہ پڑھتے تھے مگر میرا خیال ہے کہ ان کے پاس سر ڈھانکنے کے لیے کپڑا نہیں ہوتا تھا۔حدیثوں میں آتا ہے کہ صحابیہ کے پاس بسا اوقات تہبند کے لیے بھی پورا کپڑا نہیں ہوتا تھا۔الفضل ۱۷ اکتوبر ۱۹۴۶ء سوال:- اگر صاف اور پاک کپڑا نہ ملے تو کیا کرے ؟ جواب: اگر کسی کو صاف اور پاک کپڑا میسر نہ آئے تو وہ گندے کپڑوں میں ہی نماز پڑھ سکتا ہے خصوصاً وہم کی بناء پر نماز کا ترک تو بالکل غیر معقول ہے جیسا کہ ہمارے ملک میں کئی عورتیں اس وجہ سے نمازہ ترک کر دیتی ہیں کہ بچوں کی وجہ سے کپڑے مشتبہہ ہیں اور