فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 65 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 65

۶۵ جائز ہوسکتا ہے کہ کپڑوں کی ناپاکی کے خیال سے اپنے دل کو نا پاک کر لیا جائے اور اس بہانہ سے نماز ترک کردی جائے لیا ستر عورت کوال : فکر بین کر نماز پڑھنے کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ جواب : اگر کسی کے پاس نظر ہے اور دوسرا کپڑا نہیں تو نکر پہن کر جائز ہے بلکہ اگر اس کے پاس کپڑا نہیں تو نکر چھوڑ لنگوٹی میں بھی نماز جائز ہے لیکن جان بوجھ کر ایسا کرنا جبکہ اور کپڑا موجود ہونا جائز ہے۔الفضل ۱۷ اکتوبر ۱۹۴۶ سوال :۔کیا عورت باریک دو پڑ جس میں بال نظر آئیں اوڑھ کر نماز پڑھ سکتی ہے۔جواب:- ایسے باریک دوپٹے جن میں سے بال نظر آئیں اوڑھ کر نماز ادا کرنا درست نہیں۔خصوصاً ایسی جگہوں میں جاب غیر محرموں کی آمد ورفت ہو حضرت عائشہ سے حدیث مروی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :- لا يقبل الله صلوة حائض (اى امرأة ) الا بغمار - ایک دوسری حدیث میں آتا ہے کہ حضور نے فرمایا :۔( بخاری ) لا يقبل الله من امرأة صلوة حتى توارى زينتها ولا جارية بلغت المحيض حتى تختمر ( رواه طيراني عن ابی قتاده) ان احادیث اور آیات قرآنی خذوا زينتكم عند كل مسجد اور دليفرين بغمر هن على جيوبهن ولا بيدين زينتهن۔۔۔۔۔ولا يضربن بارجلهن ليعلم ما يخفين من زينتهن سے فقہاء نے مندرجہ ذیل استدلال کیا ہے۔امام شافعی اور اوزاعی فرماتے ہیں :- تخطى جميع بدنها الا وجهها وكفيها تفسیر کبیره پنجم حصہ سوم صفحه ۲۳۱ تا ۲۴۲