فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 64
۶۴ نماز کی تعمیری شرط ستر عورت یعنی پردہ پوشی لیاس سے بھی انسان معز لگتا ہے اس لیے پاک صاف اور ستھرا لباس پہینکر انسان خدا کے دربار میں جائے اور اس کے حضور نماز ادا کرے۔گندے کپڑوں میں نماز نہیں ہوتی۔مرد کے لیے کم از کم ناف سے لے کر گھٹنوں تک کے جسم کی پردہ پوشی ضروری ہے ورنہ نماز صحیح نہ ہو گی۔عورت نماز پڑھتے وقت صرف چہرہ بشرطیکہ وہاں کوئی نامحرم موجود نہ ہو پہنچوں تک ہاتھ اور ٹخنوں تک پاؤں تنگے اور کھلے باہر ، رکھ سکتی ہے اس کے بال با ہیں اور پنڈلیاں اور جسم کا باقی حصہ پردہ میں اور ڈھکا ہوا ہونا چاہیئے اور باریک کپڑا جس سے جسم نظر آئے نماز پڑھتے وقت نہیں پہننا چاہئیے۔لباس کھلا کھلا سلا ہوا ہونا چاہیئے تنگ اور چست لباس جس سے سجدہ کرنے یا بیٹھنے میں سخت وقت ہو نا پسندیدہ سمجھا گیا ہے اس طرح نگے سرنماز پڑھنا یا سر پر تولیہ یا ڈال ڈال لینا یا چادر اس طرح اوڑھ لینا کہ ہاتھ اوپر اٹھاتے وقت سنتر کے کھل جانے کا اندیشہ ہو اچھا نہیں سمجھا گیا۔لباس کے متعلق عام ہدایت یہ ہے کہ مرد ریشمی لباس نہ پہنیں اورنہ ہی ایسا فاخرانہ اور کھڑکیا لباس جو سب میں نمایاں کئے رکھے اور اوچھے پین پر دلالت کرے۔ہمیشہ ستر کے مقصد کو پورا کرنے والا با وقار اور سادہ لباس پہننا چاہیے۔گر کسی شخص کے کپڑے ناپاک ہوں ان پر نجاست لگی ہوئی ہو اور اس کے پاس اور کپڑے نہ ہوں جو بدل سکے اور نماز کا وقت آجائے تو انہی گندے کپڑوں کے ساتھ وہ نماز پڑھ سکتا ہے اگر پردہ ہے تو کپڑے اتار کر لگے جسم کے ساتھ نماز پڑھ لے اور یہ پرواہ نہ کرے کہ اس کے کپڑے پاک نہیں میں یا جسم پر کوئی کپڑا نہیں ہے کیونکہ کپڑوں کی پاکندگی سے دل کی پاکیزگی ہر حال مقدم ہے پس یہ کیسے