فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 60
1- نماز چھوڑ کر جا کر دھو کرے اور پھر نئے سرے سے وہ ساری نماز پڑھے جس میں وضو ٹوٹا ہے یہ صورت بہتر ہے۔ب۔بغیر کسی سے بات کئے اور زیادہ دیر لگائے جا کر وضو کرے اور پھر واپس آکر وہاں سے نماز شروع کرے جہاں سے وہ چھوڑ گیا ہے۔یہ صورت جائز ہے۔ج - اگر جماعت کے ساتھ نماز پڑھ رہا ہے اور وضو کر کے واپس آکر جماعت میں شامل ہوا ہے تو جو رکھتیں امام اس دوران میں پڑھ چکا ہے وہ امام کے سلام پھیرنے کے بعد اُٹھ کر پڑھ سے یہ اس کی وہی رکھتیں ہونگی جو امام کے ساتھ پڑھنے سے رہ گئی ہیں۔د - اگر امام نے ابھی پوری رکعت نہیں پڑھی صرف رکوع یا سجدہ میں گیا ہے تو جلدی سے اپنے طور پر یہ رہا ہوا رکوع یا سجدہ کر کے امام کے ساتھ شامل ہو جائے۔ابن ماجہ کی حدیث جیسے حضرت عائشہ اور حضرت ابو سعید خدری نے روایت کیا ہے اس کے الفاظ یہ ہیں :- من اصابة تى او رعاف اوقلس اومدى تلينصرت فليتوضا ثم ليبن على صلوته دهو في ذالك لا يتكلم۔(ابن ماجه كتاب الصلوة ) یعنی اگر کسی کو نماز میں تھے آ جائے یا نکسیر پھوٹ پڑے یا مذی کا قطرہ نکل آئے تو وہ کسی سے بولے بغیر جاکر وضو کرے اور پھر اپنی پہلی نماز پر بنا کرے یعنی جہاں سے نمازنہ چھوڑی ہے وہیں سے شروع کرے۔اس کی تشریح میں علماء نے لکھا ہے کہ اجمع الخلفاء الراشدون وغيرهم كعبد الله بن مسعود د عبد الله بن عباس وعبد الله بن عمر و انس بن مالک و سلمان الفارسی رضی الله عنهم على ذالك - رعمدة الرعاية لمولوى عبدالحی لکھنوی) یعنی خلفاء راشدین اور بعض دوسرے اجل صحابہ مثلاً عبداللہ بن مسعود عبداللہ بن عباس عبدالله بن عمر انس بن مالک اور مسلمان فارسی رضی الله عنهم نے بھی اسی رائے سے اتفاق کیا ہے اور بنا کو جائز ردیا ہے