فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 59 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 59

۵۹ صحابہ کی اکثریت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں پاؤں پر مسح کرتی تھی اس کا بار ثبوت شیعہ حضرات پر ہے۔سوال : جب ہوا خارج ہونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے تو ڈکار لینے سے کیوں نہیں ٹوٹتا جبکہ دونوں ہوائیں انتڑیوں سے خارج ہوتی ہیں اور بدبودار ہوتی ہیں۔جواب : - نص شریعت اصل بنیاد ہے چونکہ نص میں صرت ریح“ کے خارج ہونے کو وضو توڑنے کا موجب قرار دیا گیا ہے اس لیے اس حد پر رکنے کا حکم ہے۔آگے اس پر قیاس کرنے کی اجازت نہیں کیو نکہ عبادات یعنی احکام تعبدی میں قیاس کو بطور ماخذ شریعت تسلیم نہیں کیا گیا۔پیشاب پاخانہ کی راہ سے جو چیز بھی نکلے یا اندر جائے اس سے وضو ٹوٹ جائے گا۔یہ امر نواقض وضو میں شامل ہے، لیکن منہ کی یہ صورت حال نہیں ، منہ سے کوئی چیز نکلے یامنہ کے ذریعہ اندر جائے جیسے سانس لینا تھوکنا، کھانا کھانا، پانی پینا اس سے وضو نہیں ٹوٹتا۔پس اسی طرح ڈکا ر سے بھی وضو نہیں ٹوٹے گا۔باقی یہ اپنی جگہ الگ حکم ہے کہ کھانا کھانے پانی پینے سانس لینے تھوکنے، بلغم پھینکنے، چھینک مارنے یاڈ کا رینے کے آداب اور اُن کے متعلق اسلامی ہدایات کھلے کیا ہیں اور محبیس کے حقوق ان پر کس حد تک اثر انداز ہوتے ہیں۔۔ڈکارمنہ کے راستے اُس ہوا کے خارج کرنے کا نام ہے جو کھانے وغیرہ کے ساتھ دوسری نالیوں کے راستے اندر چلی جاتی ہے اور بالعموم معدہ کے اوپر کے کم متقی حصوں میں جمع ہوتی ہے لیکن ریح مخزن نجاسات یعنی انترلوں اور معدہ کے نچلے حصہ سے نکلتی ہے اور اس کا مخرج یعنی نکلنے کا راستہ بھی متعفن اور نجس ہوتا ہے اس لیے ڈکار کی نسبت یہ زیادہ مردہ کیفیت ہے اور اس کے خارج کرے میں بے احتیاطی ایک عالمگیر نا پسندیدگی شمار ہوتی ہے۔پس اسلام نے بھی اس نا پسندیدگی کو قائم رکھا ہے اور اسے ناقض وضو قرار دیکہ احتیاط کی ترغیب دی ہے تاکہ لازمی اجتماعات اور مجالس میں طبعی بدمزگی اور ذہنی تنفر پیدا کرنے والے اسباب کی روک تھام ہو سکے۔اور اجتماعات میں تنفر والی اور بو پھیلانے والی کوئی بات پیدا نہ ہو۔سوال :۔نماز پڑھتے ہوئے اگر وضو ٹوٹ جائے تو کیا کیا جائے ؟ جواب:- نماز پڑھتے ہوئے اگر وضو ٹوٹ جائے تو دو صورتوں میں سے کوئی سی صورت اختیار کی جاسکتی ہے۔