فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 44 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 44

کے لیے نماز ظہر مقرر کی گئی جس کا وقت زوال آفتاب سے شروع ہوتا ہے گویا مصیبت کی اطلاع کے ساتھ ہی اس سے چھٹکارا پانے کی جدوجہد کا اُس نے آغاز کر دیا۔دوسرا تغیر اس وقت انسان پر آتا ہے جبکہ مصیبت سریہ آکھڑی ہوتی ہے جیسے مثلاً بذریعہ وارنٹ گرفتار ہو کر انسان حاکم کے سامنے پیش ہو یہ وہ وقت ہے جبکہ خوف سے انسان کا خون خشک۔اور ستی کا نور اس سے رخصت ہونے کو ہوتا ہے اور امید و بیم ، ڈر اور خوف کی عجیب کیفیت انسان دو چار ہوتا ہے سو یہ حالت اس وقت سے مشابہ ہے جبکہ آفتاب کا نور کم ہوجاتا ہے اور صریح نظر آتا ہے کہ اب غروب نزدیک ہے اس صورت حال کے مقابل اندرونی بے اطمینانی کو دور کرنے کے لیے عصر کی نماز مقرر ہوئی اور نجات کے لیے جد وجہد میں تیزی آگئی۔تیرا تغیر انسان پر اس وقت آتا ہے جبکہ اس مصیبت سے نجات پانے کی امید منقطع ہو جاتی ہے اور مایوسی اسے آگھیرتی ہے مثلاً جیسے فرد جرم لگ جاتی ہے اور مخالفانہ گواہ اس کی ہلاکت کیلئے گذر جاتے ہیں یہ وہ وقت ہے جبکہ انسان کے حواس جواب دینے لگتے ہیں اور وہ اپنے تئیں ایک قیدی سمجھنے لگتا ہے سو یہ حالت اس وقت سے مشابہ ہے جبکہ آفتاب غروب ہو جاتا ہے اور روشنی کی کوئی کردن باقی نہیں رہتی اس حالت کے مقابل روحانی مایوسی کی ہلاکت سے بچنے کے لیے نماز مغرب مقرر ہوئی گویا نجات کے لیے جدو جہد اور تیز ہوگئی۔چوتھا تغیر انسان پر اس وقت آتا ہے جبکہ مصیبت میں انسان بالکل پھنس جاتا ہے تاریخی انسان کا احاطہ کر لیتی ہے مثلاً جب کہ شہادتوں کے بعد منزا کا حکم سنایا جاتا ہے اور پولیس مجرم کو جیل کی طرف لے جانے لگتی ہے۔سو یہ حالت اس وقت سے مشابہ ہے جبکہ رات آ جاتی ہے اور ہر طرف اندھیرا چھا جاتا ہے اضطراب کی اس ناقابل برداشت حالت کے مقابل روحانی سکون کو باقی رکھنے کے لیے گویا بطور آخری چارہ کار نماز عشاء مقرر ہوئی جس میں گویا یہ سنتی ہے کہ خدا ہی کی ذات ہے جسے سب طاقتیں ہیں اُس کے در کے سوا انسان کدھر جائے اور اپنی فریاد کیسے سنائے پس وہ اسی کے دروازے پر گرتا ہے اور اس کے حضور اپنی فریاد کو انتہا تک پہنچا دیتا ہے۔پانچواں تغیر انسان پر اس وقت آتا ہے جبکہ اس کی جدو جہد اور آہ و زاری آخر سنگ لوتی ہے۔خدا کا رحم جوش مارتا ہے۔مصائب کے بادل چھٹ جاتے ہیں اور تاریکی کے بعد آخر کار صبح امید نمودار ہوتی ہے اور پھر دن کی روشنی پہلی کی سی چمک دمک کے ساتھ ظاہر ہو جاتی ہے۔مواس حالت امید و مسرت کے مشابہ روحانی خوشی کا سجدہ شکر نماز فجر کی صورت میں متعین ہوا۔