فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 43 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 43

۴۳ (iii) مغر کے وقت سورج ڈوب چکا ہوتا ہے تاریکی کے سائے بڑھنے لگتے ہیں خطرے کا وقت آپہنچتا ہے ظلمت کے بندے بدی کی تیاریوں میں لگ جاتے ہیں ایسے وقت میں عبادت رکھ کر اس طرف توجہ دلائی کر ان حالات میں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی پناہ گاہ نہیں اور تاریخی کی ظلمتوں سے نجات پانے کے لیے دہی ایک آفتاب عالمتاب ہے جس کی روشنی دائمی ہے۔(۷) عشاء کی نماز کے ذریعہ سونے سے پہلے اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے اس کے فضلوں کا شکر بجا لانے مصیبتوں سے نجات پانے کے لیے دعا کرنے کا موقع بہم پہنچایا گیا ہے نیز یہ وقت فراغت کا ہے اس وقت طبیعت عیش و آرام اور کھیل تماشہ کی طرف راغب ہوتی ہے اگر عبادت کا رجحان نہ ہو تو ان فضولیات اور بڑے مشاغل میں وقت صرف ہوگا اور ان میں انہماک کی وجہ سے وہ دیر سے سوئے گا اس طرح صبح دیر سے بیدار ہو گا۔صبح کی نماز بھی وقت پر نہ پڑھ سکے گا اور دوسرے اہم کام بھی وقت پر شروع نہ کر سکے گا علاوہ ازیں اس وقت میں نمانہ مقرہ کر کے اس طرف بھی توجہ دلائی ہے کہ انسان سونے سے پہلے اپنا معاملہ نہات کرلے تا اگر سوئے ہوئے موت آجائے تو وہ محاسبہ اور حسرت کی آگ سے بچ جائے م انسان جن خیالات میں سوئے گا وہی رات بھر اس کے دماغ میں چکر لگاتے رہیں گے اس نماز اور ذکر الہی کے معاً بعد وہ سوئے گا تو پاکیزہ خیالات اس کے دماغ میں سما جائینگے اس طرح اس کی نیند بھی عبادت کا حصہ بن جائے گی۔(۷) فجر کی نماز کے لیے اٹھنا باعث برکت ہے کیونکہ یہ بر کانت الہیٰ کے نزول کا وقت ہے ان برکات سے حصہ لینے کی تمنا سچے ایمان کا عین اقتضاء ہے جس طرح سورج کی آمد آمار تاریک ماحول کو روشن کر دیتی ہے اسی طرح صلوۃ اور دعا کی روشنی سے مایوسی کی تاریکیاں ہوا ہو جاتی ہیں مسرتوں کی عطر بیز ننک چاروں طرف پھیل جاتی ہے۔نماز کے یہ پانچ اوقات مقرر کرنے میں ایک اور حکمت یہ ہے کہ یہ نمازیں ہمارے پانچ مختلف باطنی تغیرات کا فوٹو اور فطرت انسانی کا مقتضی ہیں کیونکہ ہماری زندگی کے لازم حال پانچے اندرونی تغیر ہیں۔سب سے پہلے جب انسان کو اطلاع ملتی ہے کہ اس پر ایک مصیبت آنے والی ہے مثلاً جیسے اُس کے نام عدالت کی طرف سے وارنٹ گرفتاری آئے تو اس سے اس کے اطمینان میں خلل واقع ہوگا اور اس کی خوشحالی متاثر ہوگی۔انسان کی یہ حالت زوال کے وقت کے مشابہ ہے کیونکہ اس حالت سے اس کے اطمینان اور اس کی خوشحالی میں زوال آنا شروع ہوا اس اس پریشان کن صورت حال کے یہ نتائج سے بچنے