فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 45
۴۵ غرض نمازوں کے اوقات انسان کے روحانی تغیرات کا خلق اور نماز میں آنے والی مصیبتوں کا علاج ہیں انسان نہیں جانتا کو چڑھنے والا نیا ن کی قضاء و قدر کولائے گا۔پس قبل اس کے جو دن چڑھے انسان اپنے مولائے حقیقی کی جناب میں تضرع کرے تا وہ اس کے لیے خیر و برکت کا دن پڑھائے۔اوقات مکروبه مندرجه ذیل وقتوں میں نماز پڑھنا مکر وہ اور نا پسندیدہ ہے۔جب سورج طلوع ہو رہا ہو اس وقت سے لے کر نیزہ بھر سورج بلند ہونے تک کوئی نماز نہیں پڑھنی چاہیئے نہ فرض اور نہ نفل۔البتہ اگر دیر سے جاگ آئی یا کوئی اور حقیقی روک پیدا ہوگئی اور تیاری وغیرہ کر کے تجر کی فرض نماز شروع کی، ابھی ایک رکعت پڑھی تھی کہ سورج نکلنے لگا تو ایسی صورت میں دوسری رکعت سورج نکلنے کے دوران میں بھی انسان پڑھ سکتا ہے۔مین دوپہر کے وقت جب سورج بالکل سر میر ہو اس وقت میں فرضوں یا نفلوں میں سے کوئی نماز نہیں - پڑھنی چاہیئے۔تاہم جمعہ کے دن اس وقت میں مسجد میں دو رکعت نفل پڑھنے کی اجازت ہے۔جب سورج غروب ہو رہا ہو تو اس وقت میں بھی کوئی فرض یا نفل نماز جائز نہیں البتہ اگر کسی معقول منذر کی وجہ سے عصر کی نماز وقت پر نہ پڑھی جاسکی ہو اور ابھی ایک رکعت پڑھی تھی کہ سورج ڈوبنے لگا ایسی صورت میں بقیہ تین رکعتیں سورج ڈوبنے کے دوران بلکہ اس کے بعد بھی پڑھی جاسکتی ہیں۔یہ تو وہ اوقات تھے جن میں بلا عذر کوئی نماز بھی جائز نہیں نہ فرض نہ نقل، لیکن مندرجہ ذیل اوقات میں صرف نفل نماز مکروہ ہے۔فجر کے طلوع ہونے کے بعد سورج نکلنے تک دو رکعت سنت کے علاوہ کوئی اور نقل نماز جائز نہیں۔عصر کی نماز پڑھنے کے بعد نفل نماز جائز نہیں۔عید کے دن سورج نکلنے کے بعد عید گاہ میں نقل جائز نہیں نہ عید کی نماز سے پہلے اور نہ عید کی نماز کے بعد۔نماز با جماعت ہو رہی ہو تو اس وقت مسجد میں اپنے طور پر سنت یا نفل نماز جائز نہیں۔تاہم خانہ کعبہ یعنی مسجد الحرام میں کسی وقت بھی سنت یا نفل نماز پڑھ سکتے ہیں کیونکہ وہاں ہر وقت طواف کعبہ کر سکتے ہیں اور ہر طواف کے بعد دو رکعت نماز پڑھنا ضروری ہے جسے طواف کی نماز کہتے ہیں۔سورج گر مین کی صورت میں نماز کسوف کسی وقت بھی پڑھی جاسکتی ہے سورج نکل رہا ہو یا ڈوب رہا ہو مین دوپہر ہو یا عصر کی نماز کے بعد ہوتیں وقت بھی گرمین لگے نماز شروع کر دینی چاہیے کیونکہ اس نمازہ کا سبب سورج گرہن ہے وہ نہیں وقت لگے اسی وقت نماز پڑھنا مسنون