فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 37
نماز کی پہلی شرط وقت پانچ اوقات میں نماز فرض ہے جن کی تفصیل یہ ہے :۔۔۔-١ - فجر -: - رات جب ختم ہو جاتی ہے اور پو پھٹتی ہے تو مشرق میں سفیدی پھیلنے لگتی ہے۔اس وقت کو فجر کہتے ہیں اور صبح صادق بھی۔یہ وقت سورج نکلنے سے ذرا پہلے تک رہتا ہے۔معتدل علاقوں میں گھڑی کے لحاظ سے یہ ڈیڑھ گھنٹہ سے کچھ کم وقت بنتا ہے۔اس وقت میں دو رکعت نماز سنت اکیلے پڑھتے ہیں اور پھر دو رکعت نماز فرض با جماعت ادا کرتے ہیں۔افضل اور بہتر یہی ہے کہ کچھ منہ اندھیرے نماز شروع کی جائے، قرأت لمبی ہو اور روشنی خوب پھیل جانے پر یہ ختم کی جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ نماز باجماعت میں شامل ہو سکیں۔ظہر کا وقت سورج ڈھلنے سے شروع ہوتا ہے اور اس وقت تک رہتا ہے جبکہ ہر چینہ کا سایہ ایک مثل یعنی اس چیز کے برابر ہو جائے۔اس وقت میں چار رکعت نماز سنت پھر چار رکعت نماز فرض اس کے بعد دو رکعت نماز سنت ادا کی جاتی ہے۔اگر کوئی چاہے تو بعد ازاں دو رکعت نماز نفل پڑھ سکتا ہے اس سے زیادہ ثواب ملتا ہے نفل نماز کھڑے ہو کر پڑھنے سے زیادہ تو اب ہوتا ہے۔لیکن یہ نفل بیٹھ کر تھی پڑھ سکتے ہیں البتہ فرض اور سنت نمازہ بلا عذر بیٹھ کر پڑھنا درست نہیں۔اگر کسی مصروفیت یا مجبوری کی وجہ سے پہلی مثل میں ظہر کی نماز نہ پڑھی جا سکے تو دوسری مثل یعنی ہر چیز کا سایہ دگنا ہونے تک یہ نمازہ ہو سکتی ہے۔گھڑی کے لحاظ سے ظہر کا سارا وقت معتدل علاقوں میں تین گھنٹے کے قریب بنتا ہے۔ظہر کی نمازہ گرمیوں میں کچھ دیر ٹھہر کر اور سردیوں میں جلدی پڑھنا بہتر ہے جمعہ کی نماز کا بھی وہی وقت ہے جو ہر کی نمازہ کا ہے گو یا جمعہ کی نماز در اصل ظہر کی نماز کے قائمقام ہے لیے عصر دوسری مثل دیعنی ہر چیز کا سایہ دگنا ہونے) سے لے کر سورج ڈوبنے سے کچھ پہلے تک کا وقت عصر کہلاتا ہے۔گھڑی کے حساب سے معتدل علاقوں میں عصر کا وقت دو اڑھائی ے۔دیکھیں باب نماز