فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 368 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 368

۳۶۸ ہوگی۔ورنہ زکواۃ واجب نہ ہوگی کیونکہ ایسی صورت میں اگر زکواۃ عائد ہو تو سارا سرمایہ اس میں صرف ہو جائے گا۔اور نا بالغ کے مفاد کے لئے مال جمع رکھنے کا مقصد فوت ہو جائے گا۔زکواۃ کیا ہے فتاوی زکواة کیا ہے " يُو خَذَ مِنَ الْأُمَرَاءِ وَيُرَدُّ إِلَى الْفُقَرَاء یعنی وہ مال جو امراء سے لے کر فقراء کو دیا جائے اس میں اعلیٰ درجہ کی ہمدردی سکھائی گئی ہے۔اس طرح سے باہم گرم سرد ملنے سے مسلمان سنبھل جاتے ہیں۔امراء پر یہ فرض ہے کہ وہ ادا کریں۔اگر نہ بھی فرض ہوتی تو بھی انسانی ہمدردی کا تقاضا تھا کہ غرباء کی مدد کی جائے۔مگر اب میں دیکھتا ہوں کہ ہمسایہ اگر فاقہ مرتا ہو تو پرواہ نہیں اپنے عیش و آرام سے کام ہے جو بات خدا تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالی ہے لیکن اس کے بیان کرنے سے رک نہیں سکتا۔انسان میں ہمدردی اعلی درجہ کا جوہر ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے "لَن تَنالُوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ یعنی تم ہرگز ہرگنہ اس نیکی کو حاصل نہیں کر سکتے جب تک اپنی پیاری چیزوں کو ادند کی راہ میں خرچ نہ کرو۔یہ طریق اللہ کو راضی کرنے کا نہیں کہ مثلاً کسی ہندو کی گائے بیمار ہو جائے اور وہ کہے کہ اچھا اسے منس کے دیتے ہیں۔دیعنی صدقہ میں دیتے ہیں)۔بہت سے لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ باسی اور سٹری بھی روٹیاں جو کسی کام نہیں آسکتی ہیں فقیروں کو دے دیتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہم نے خیرات کر دی ہے۔ایسی باتیں اللہ تعا لئے کو منظور نہیں ہیں اور نہ ایسی خیرات مقبول ہو سکتی ہے وہ تو صاف طور پر کہتا ہے لن تنالوا الْبِرَّ حَتَّى تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ، حقیقت میں کوئی نیکی نیکی نہیں ہو سکتی جب تک اپنے پیار سے مال اللہ تعالی کی راہ میں اُس کے دین کی اشاعت اور اس کی مخلوق کی ہمدردی کے لئے خرچ نہ کرو یا سے له - سورة العمران : ۱۳ : ۲:- مننا ہندی لفظ ہے اور اس کے معنے صدقہ دینا ہیں : کے فتاوی حضرت مسیح موعود ، بدی شاه به :