فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 367
اموال پر زکوٰۃ کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ اکتناز ذخیرہ اندوزی۔ہور ڈنگ اور مال جمع کرنے اور مہنگا کر کے بیچنے کی حرص کا قلع قمع کیا جائے اور مال جلد جلد نکالنے اور فروخت کرنے کی عادت ڈالی جائے۔اگر کسی کے قبضہ میں نصاب کے برابر یا اس سے زیادہ کوئی سال ہو مگر سال کے دوران میں وہ نصاب سے کم رہ جائے لیکن سال کے آخر میں نصاب کے برابر یا اس سے بڑھ جائے تو زکواۃ کے وجوب میں دوران سال کی کی اثر اندانہ نہ ہوگی اور سال کے آخر میں جو بھی مال موجود ہے اس پر زکواۃ عائد ہوگی۔اگر سال کے دوران مال گر جائے۔پھر ایا جائے۔کوئی چھین سے یا کسی اور طرح مالک کے قبضہ اور تصرف سے نکل جائے لیکن سال کے آخر میں وہی مال مل جائے تو زکوۃ واجب ہوگی ہاں اگر کئی سال تک وہ مال مالک کو نہ ملے یا اس نے کسی کو قرض دیا ہوا ہو یا زیور یا مویشی کسی کے پاس رہن رکھے ہوئے ہوں یا دوکاندار کا روپیہ خریداروں کے ذمہ ہو تو ان سب صورتوں میں صرف اسی سال کی نہ کواۃ واجب ہوگی جس سال یہ مال دوبارہ اس کے قبضہ اور تصرف میں آیا ہے۔ایک صاحب نے سوال کیا کہ تجارت کا جو مال خریداروں کی طرف ہوتا ہے اور اگراہی میں پڑا ہوتا ہے اس پر زکواۃ کا کیا حکم ہے۔اس پر سیدناحضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا : - جو مال معلق ہے اس پر زکواۃ نہیں۔جب تک کہ اپنے قبضہ میں نہ آجائے۔لیکن تاجر کو چاہیے کہ حیلہ بہانہ سے زکواۃ کو نہ ٹال دے۔آخر اپنی حیثیت کے مطابق اپنے اخراجات بھی تو اسی مال میں سے برداشت کرتا ہے۔تقویٰ کے ساتھ اپنے مال موجودہ اور معلق پر نگاہ ڈالے اور مناسب دے کر خدا تعالیٰ کو خوش کرتا رہے بعض لوگ خدا کے ساتھ بھی حیلے بہانے کرتے ہیں یہ درست نہیں ہے۔مقروض کا قرضہ اگر اس کی مملوکہ جائیداد اور آمدن سے بڑھ گیا ہے اور اس کی استطاع سے باہر ہے تو قرضہ کی ادائیگی تک اُس پر زکواۃ واجب نہیں ہے۔نابالغ یا دیوانہ کا مالک نابالغ اور دیوانہ کی ملکیت میں جو مال ہے اگر تو اُسے محفوظ تجارت میں لگانے کے مواقع ہیں اور اس اعتماد پر اس مال کے نگران نے اُسے تجارت میں لگا دیا ہے تو حسب قواعد زکواۃ واجب ے: مجموعہ فتاوی احمدیہ جلد مثلا :