فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 369 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 369

۳۶۹ سوال : سونے کی صورت میں زکواۃ کس طرح ادا کی جائے یعنی اس کا نصاب کیا ہے ؟ جواب : سونے کے لئے ہمارے نزدیک چاندی معیار ہے یعنی اگر کسی کے پاس اتنا سونا ہو جو ہ ۵۲ تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہو تو ایسے شخص کو زکوۃ ادا کرنی چاہئے بشرطیکہ ہونا اسے یورکی شکل میں نہ ہو جسے بالعموم استعمال کیا جاتا ہے اور کبھی کبھار غاریہ مانگنے والی کو پہننے کیلئے دے دیا جاتا ہے اور بخل سے کام نہیں لیا جاتا سوال :۔شروع سال میں نصاب کے برابر رقم تھی۔پھر سال کے دوران میں اس میں اضافہ ہوتا رہا۔ایسی زیادتی کی زکواۃ کے بارہ میں کیا حکم ہے ؟ جواب : اگر سال کے دوران میں سرمایہ بڑھ جائے مثلاً دن کا پندرہ ہزار ہو جائے تو زکواۃ ۵ ہزار پر عائد ہو گی خواہ پانچ ہزار رو پیدا ایسا ہو جو سال گزرنے سے ایک دو روز ہی پہلے میستر آیا ہو۔غرض زائد آمدن سابقہ سرمایہ کے تابع ہو گی اور اس کے لئے سال سرمایہ کے تابع ہو گی اور اس کے لئے گزرنے کی شرط نہیں ہوگی۔سوال : کیا سیکورٹی اور پراویڈنٹ فنڈو میعادی امانت رفکسڈ ڈیپازٹ زکواۃ سے مستثنی ہیں۔امانت تابع مرضی ( CURRENT ACCOUNT ) کے بارہ میں کیا حکم ہے ؟ جوا ہے :۔قرض میعادی امانت سیکورٹی ضمانت میں دی ہوئی رقم اور پراویڈنٹ فنڈ پر زکواۃ نہیں۔البتہ جس سال یہ رقوم وصول ہوں اس سال کی زکواۃ ادا کرنی چاہیئے۔امام مالک اپنی کتاب موطا میں فرماتے ہیں :- الاَمْرُ الَّذِي لَا اِخْتِلَانَكَ فِيهِ عِنْدَ نَا فِي مَسْئَلَةِ الدَّيْنِ إِنَّ صَاحِبَهُ لَا يُزَكِّيهِ حَتى يَقْبِضَهُ صَاحِبُهُ لَمْ يَجِبْ عَلَيْهِ۔اللَّا زَكوةٌ وَاحِدَهُ له ہمارے (یعنی مدینہ کے علماء کے نزدیک یہ مسئلہ متفق علیہ ہے کہ جو قرض مقروض کے پاس کئی سال تک رہے اس پر زکواۃ نہیں البتہ جس سال یہ قرض وصول ہو صرف اس سال کی زکواۃ ادا کرنا ہوگی۔جو بھائی قرض کا ہے وہی میعادی امانت اور سیکورٹی وغیرہ کا ہے۔امام مالک نے اپنے مسلک کی تائید میں حدیث بھی پیش کی ہے۔علاوہ ازیں زکوۃ کی ایک عرض یہ بھی ہے کہ مال مالک کے پاس بند نہ پڑا رہے بلکہ لا محالہ وہ مجبور ہو کر اسے کاروبار میں لگائے یا کسی دوسرے کو اس سے استفادہ کرنے دے ورنہ زکواۃ اس کے : اوجز المسالك شرح موطا مالک جلد ۳ ص :