فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 315
۳۱۵ حج اُس کی اہمیت اُسکا فلسفہ اور اس کے احکام ایت خانہ کعبہ جسے بیت اللہ بھی کہتے ہیں اس کی زیارت کی نیت سے مکر جانا ج کہلاتا ہے۔اس زیارت کی کئی شرائط ہیں جن کا تفصیلی ذکر بعد میں آئے گا۔اس وقت قرآن کریم کی ان آیات کو پیش کرنا مد نظر ہے جن میں حج کی تاریخی حیثیت اور اس کے احکام کا علی الا جمالی ذکرہ آیا ہے۔اللہ تعالی قرآن کریم میں بیت اللہ کی عظمت اور اس کی تاریخی اہمیت کے سلسلہ میں فرماتا ہے :- ا - إن أوّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَةٌ مُبرَكا وَهُدًى لِتَعْلَمينَ۔فِيهِ أَنتُ بَيِّنْتُ مَقَامُ ابْراهِيمَةً وَمَنْ دَخَلَهُ كَانَ أَمِناط یعنی سب سے پہلا گھر جو تمام لوگوں کے فائدہ کیلئے بنایا گیا تھا وہ ہے جو مکہ میں ہے۔وہ تمام جہانوں کے لئے برکت والا مقام اور موجب صدایت ہے۔اس میں کئی روشن نشانات ہیں وہ ابراہیم کی قیام گاہ ہے اور جو اس میں داخل ہو وہ امن میں آجاتا ہے۔حضرت ابراہیم کے ہاتھوں بیت اللہ کی تعمیر ثانی کے سلسلہ میں فرمایا۔۲ - وَإِذْ يَرْفَعُ الْرَجِمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَإِسْمَعِيلُ رَبَّنَا تَقَبَّلُ مِنَّاء إنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيْمُه رَبَّنَا وَاجْعَلُنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَ مِنْ ذُريَّتِنَا أُمَّةٌ مُسْلِمَةٌ لَّكَ وَ آرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَا إِنَّكَ أنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُه رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولاً مِنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ : ALONE الكتب وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ إِنَّكَ انْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ۔اور اس وقت کو بھی یاد کر جب ابراہیم اس گھر کی بنیا دیں اُٹھا رہا تھا اور اس کے ساتھ اسمعیل بھی اور وہ دونوں کہتے جاتے تھے کہ اسے ہمارے رب ہماری طرف سے اس خدمت کو ه : سوره آل عمران ۱۹۸۰۹۰۱ ۵۲:- سوره البقره ۱ ۱۱۸ تا ۱۳۰ ۹