فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 313
۳۱۳ اس سے آداب مسجد میں کوئی حرج تول ازم نہیں آتا ؟ جواب: - اعتکاف کی حالت میں بال کٹوانے اور حجامت بنوانے میں کوئی حرج نہیں۔البتہ مسجد کے اندہ اسے نا پسند کیا گیا ہے کیونکہ یہ امر مسجد کے احترام اور اس کے آداب کے خلاف ہے۔اکثر علماء امت کا یہی مسلک ہے۔چنانچہ موطا امام مالک کی شرح اوجز المسالک میں لکھنا ہے۔۔۔وَيُكْرَهُ خَلْقُ الرَّأْسِ فِيْهِ مُطْلَقًا رَى مُعْتَلِفًا كَانَ أَوْ غَيْرَ۔۔وَذَلِكَ لِحُرَمَةِ الْمَسْجِد لم یعنی مسجد میں بال کٹوانا نا پسندیدہ ہے۔یہ ممانعت مسجد کے احترام کے پیش نظر مختلف۔۔ہے۔اعتکاف کی وجہ سے نہیں۔کیونکہ حجامت بنوا نا منائی اعتکاف نہیں۔روایات میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حالت اعتکاف میں جب بالوں میں کنگھی کرنا ہوتی تو آپ اپنا سر مسجد سے باہر کر دیتے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا جو اپنے حجرہ میں ہو تیں آپ کو کنگھی کر دیتیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں ایک سوال پیش ہوا کہ معتکف اپنے دنیوی کاروبار کے متعلق بات کر سکتا ہے یا نہیں تو آپ نے فرمایا :- ا سخت ضرورت کے سبب کہ سکتا ہے اور بیمار کی عیادت کے لئے اور حوائج ضروریہ کے واسطے باہر جا سکتا ہے " سے صاحب صدا یہ لکھتے ہیں : لا بَأسَ بِأَن تَبِيعَ وَيَبْتَاعَ فِي الْمَسْجِدِ مِنْ غَيْرِ انْ تَحْضِرَ السلعة ، له حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :- اعتکاف بیسویں کی صبح کو بیٹھتے ہیں کبھی دس دن ہو جاتے ہیں اور کبھی گیارہ۔۔۔۔۔ایک دفعہ رسول کریم صلی الہ علیہ وسلم دوسروں کو قبولیت دعا کا وقت بتانے کے لئے باہر نکلے تھے مگر اس وقت دو آدمی آپس میں لڑتے ہوئے آپ نے ن: اوجز المسالك قالا : :- بدر ۲۱ فروری عنه : ه: - هداية من جلد اول :