فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 278 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 278

۲۷۸ ٹیکہ لگوانے اور جان بوجھ کر قے کرنے سے بھی روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔حدیث ہے :- مَنْ ذَرَعَهُ الْقَنَى وَهُوَ صَائِمُ فَلَيْسَ عَلَيْهِ قَضَاءُ وَ مَنِ اسْتَقَاءَ عَمَدًا فَلْيَقْضِ له اگر کسی روزہ دار کو بے اختیار قے آجائے تو اس پر روزہ کی قضاء نہیں۔لیکن جو روزہ دار جان بوجھ کر تھے کر سے تو وہ روزہ قضاء کرے۔رمضان کا روزہ محمداً توڑنے والے کے لئے اس روزہ کی قضاء کے علاوہ کفارہ دیعنی بطور سزا، ساٹھ روز سے متواتر رکھنا بھی واجب ہے۔اگر روزہ رکھنے کی استطاعت نہ ہو تو اپنی حیثیت کے مطابق ساٹھ غریبوں کو کھانا کھلانا اکٹھے بٹھا کر یا متفرق طور پر یا ایک غریب کو ہی ساٹھ دن کے کھانے کا راشن دے دینا یا اس کی قیمت ادا کرنا کافی ہے۔اگر کھانا کھلانے کی بھی استطاعت نہ ہو تو اُسے اللہ تعالی کے رحم اور اس کے فضل پر بھروسہ کرنا چاہیئے۔تے اگر کوئی غلطی سے رمضان کا روزہ کھول سے تو کوئی گناہ نہیں لیکن اس روزہ کی قضاء ضروری ہے۔اگر روزہ دار ہونے کی صورت میں عورت کے خاص ایام شروع ہو جائیں یا بچہ پیدا ہو تو روزہ ختم ہو جائے گا البتہ بعد میں ان ایام کے روزوں کی قضاء واجب ہے۔وہ امور جرنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا اگر کوئی بھول کر کچھ کھایی سے تو اس کا روزہ علی حالہ باقی رہے گا اور کسی قسم کا نقص اس کے بعدہ میں واقع نہیں ہوگا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :- إِذَا نَسَى أَحَدُكُمْ فَا كُل أَوْ شَرِبَ فَلْيُتِمَّ صَوْمَهُ فَإِنَّمَا اطْعَمَهُ الله وسَقَاه - که اگر کوئی شخص بھول کر روزہ میں کھاپی ہے تو اسکی اس کا روزہ نہیں ٹوٹے گا۔وہ اپنا روزہ له : - ترندی باب من استقاء عمدًا من : سه - بخاری باب اذا جامع في رمضان ولم يكن له شى۔۔۔الخ : : - بخاری کتاب الصوم باب الصائم اذا اكل او شرب ناسيا ما ب ص۲۵ 1