فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 277 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 277

روزہ کسی چیز سے افطار کرنا چاہیئے روزه کھجور ، دودھ ، سادہ پانی سے کھولنا مسنون ہے ہے۔إذَا افْطَرَ اَحَدُكُمْ فَلْيُفْطِرُ عَلَى تُمَرِنَانٌ لَمْ يَجِدْ فَلْيُفْطِرْ مَاءٍ فَإِنَّهُ طَهُورٌ له جب روزہ افطار کرنا ہو تو کھجور سے افطار کرے کیونکہ اس میں برکت ہے۔اگریہ میتر نہ ہو تو پانی سے روزہ افطار کرلے کیونکہ یہ بہت پاک چیز ہے۔افطار کرتے وقت یہ دُعا پڑھے :- اللهم إنّي لكَ صُمْتُ وَعَلَى رِزْقِكَ افْطَرْتُ - له اسے اللہ میں نے تیری خاطر ہی روزہ رکھا ہے اور تیرے ہی رزق سے میں نے افطارہ کیا ہے۔بعد افطار یہ کہے :۔ہو ذَهَبَ الظَّمَأُ وَابْتَلَتِ الْعُرُوقُ وَشَبَتِ الْأَجْرُ إِن شَاءَ اللهُ له پیاس دُور ہو گئی اور رگیں تروتازہ ہو گئیں اور اجر ثابت ہو گیا اگر خُدا تعالیٰ چاہیے۔کسی روزہ دار کو روزہ افطار کرانا بہت ثواب کا کام ہے۔روزہ افطار کرانے والے کوڑزہ دار جتنا ثواب ملتا ہے۔مَن فَطَّرَ صَائِمًا كَانَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ غَيْرَ انَّهُ لَا يَنْقُصُ مِنْ اجرِ الصَّائم شي آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو روزہ افطار کرائے اُسے روزہ رکھنے کے برابر ثواب ملے گا لیکن اس سے روزے دار کے ثواب میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔نواقضی روزه عمد ا کھانے پینے اور جماع یعنی جنسی تعلق قائم کرنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔اینیما کرانے، ه : - ترندی باب ما يستحب عليه الافطار مست ہے۔ابوداؤدنيا القول عند الانظار ص ٣٢ : - ابوداود کتاب الصوم باب القول عند الافطار ۳ : ۱۲ - ترندي كتاب الصوم باب فضل من فطر صائما ما۔