فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 273
وو إِذَا جَاءَ رَمَضَانُ فُتِحَتْ ابْوَابُ الْجَنَّةِ وَخُلِقَتْ أَبْوَابُ النَّارِ وَمُقَدَتِ الشَّيَاطِينُ له اس با برکت مہینہ میں جنت کے دروازے سے کھل جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں۔شیاطین قید کر دیئے جاتے ہیں۔یعنی۔یہ مبارک مہینہ فضل الہی اور رحمت خداوندی کو جذب کرنے کا ایک بابرکت مہینہ ہے اس مہینہ میں خصوصا اس کے آخری عشرہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بکثرت دعائیں مانگا کرتے اور بہت زیادہ صدقہ و خیرات کیا کرتے تھے۔روزہ کیس پر فرض ہے رمضان کے روز سے ہر بالغ عاقل تندرست مقیم مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہیں۔مسافر اور بیمار کو یہ رعایت ہے کہ وہ دوسرے ایام میں ان روزوں کو پورا کرلیں۔جو اس ماہ میں ان سے رہ گئے ہیں مستقل بیمار جنہیں صحت یاب ہونے کی کبھی امید نہ ہو یا ایسے کمزورونا توان ضعیف جنہیں بعد میں بھی روزہ رکھنے کی طاقت نہ ملے۔اسی طرح ایسی مرضعہ اور حاملہ جو تسلسل کے ساتھ ان عوارض سے دو چار رہتی ہے۔ایسے معذور حسب توفیق روزوں کے بدلہ میں فدیہ ادا کریں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : منْ كَانَ مِنْكُمْ مَّرِيضًا أَوْ عَلَى سَفَرٍ فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينِ " له تم میں سے جو شخص مریض ہو یا سفر میں ہو تو اُسے اور دنوں میں تعداد پوری کرنی ہوگی اور اُن لوگوں پر جو اس یعنی روزہ کی طاقت نہ رکھتے ہوں بطور فدیہ ایک مسکین کا کھانا دینا بشرط استطاعت واجبہ روزہ کرے رکھنا چاہیئے رمضان کے روزوں کے لئے حکم ہے کہ لا تَصُومُوا حَتَّى تَرَوُا الهِلَالَ “جب تک ماه رمضان کا چاند نظر نہ آجائے روزہ نہ رکھو۔یہ رویت نظری بھی ہو سکتی ہے اور علمی بھی۔رویت علمی کی دو صورتیں ہیں۔ایک یہ کہ شعبان کے پورے تیس دن گزر چکے ہوں یا باتفاق علماء ه : - بخاری کتاب الصوم ص ۲۵ : :- بقره : ۱۸۵ :