فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 274
۴۷۴ اقت ایسا حسابی کھنڈر بنا لیا جائے جس میں چاند نکلنے کا پورا پورا حساب ہو اور غلطی کا امکان نہ رہے۔ریڈیو وغیرہ کے ذریعہ چاند نکلنے کی خبر شرعا معتبر ہے اس کے مطابق حسب فیصلہ ارباب علم و اقتدار عمل کیا جائے گا۔لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ جگہ جہاں چاند دیکھا گیا ہے اور جہاں خبر پہنچی ہے دونوں کا افق اور مطلع ایک ہو ورنہ یہ خبر قابل عمل نہ ہوگی۔یعنی اگر دونوں علاقوں کا فاصلہ بہت زیادہ ہو جیسے برطانیہ اور پاکستان تو یہ خبر ان علاقوں کے لحاظ سے ایک دوسرے کے لئے قابل عمل نہ ہوگی۔اگر مطلع صاف نہ ہو ابر یا گہری دھند ہو تو رمضان کے چاند کی رویت کے ثبوت کے لئے ایک معتبر عادل آدمی کی گواہی قبول کی جاسکتی ہے لیکن افطار اور عید الفطر منانے کے فیصلہ کے لئے کم از کم دو عادل آدمیوں کی گواہی ضروری ہے۔اے روزہ کے لئے نیت ضروری ہے جس شخص کا روزہ رکھنے کا ارادہ ہو اسے روزہ رکھنے کی نیت ضرور کرنی چاہیئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے :- مَنْ لَمْ يَجْمَعِ الصَّوْمَ قَبْلَ الْفَجْرِ فَلَا صِيَامَ لَهُ » جو صبح سے پہلے روزہ کی نیت نہ کرے اس کا کوئی روزہ نہیں۔نیت کرنے کے لئے کوئی معین الفاظ زبان سے ادا کر نے ضروری نہیں۔نیت دراصل دل کے اس ارادے کا نام ہے کہ وہ کس لئے کھانا پینا چھوڑ رہا ہے۔نفلی روزہ میں دن کے وقت دوپہر سے پہلے پہلے دبشر طیکہ نیت کرنے کے وقت تک کچھ کھایا پیانہ ہو ، روزہ کی نیت کر سکتے ہیں۔اسی طرح اگر کوئی عذر ہو مثلا رمضان کا چاند نکلنے کی خبر طلوع فجر کے بعد ملی ہو اور ابھی کچھ کھایا پیا نہ ہو تو اس وقت روزہ کی نیت کر سکتے ہیں اور ایسے شخص کا اس دن کا روزہ ہو جائے گا۔روزہ رکھنے اور افطار کرنے کا وقت كُلُوا وَاشْرَبُوا حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَكُمُ الْخَيْطُ الأَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الأَسْوَدِ ن : تحریزی کتاب الصوم باب الصوم بالشهادة ص : : - ترندي كتاب العلوم باب لا صيام لمن لم يغيره من الليل صلاة