فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 271
تکلیف اٹھانی پڑتی ہے جس سے اس کا جسم عادی ہو جاتا ہے اور اس سے غفلت کی عادت کو دھکا لگتا ہے۔پھر کھانے پینے اور شہوت سے بدیاں پیدا ہوتی ہیں۔ان کے لئے بھی روزہ رکھا گیا ہے۔انسان کھانا پینا ترک کرتا ہے ضروریات زندگی کو چھوڑتا ہے۔پیس جن ضرورتوں کے باعث انسان گناہ میں پڑتا ہے انہیں عارضی طور پر روک دیا جاتا ہے یہ لے روزہ کا جسمانی فائدہ بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ انسانی جسم تکالیف اور شدائد برداشت کرنے کا عادی ہو جاتا ہے اور اس وجہ سے اس میں قوت برداشت اور صبر کا مادہ پیدا ہوتا ہے علاوہ ازیں صحت کے برقرار رکھنے میں فاقہ کی طبی اہمیت مسلم ہے۔اگر اعتدال پیش نظر رہے تو اسی سے صحبت میں نمایاں فرق پڑتا ہے۔گویا روزہ جسم کی صحت کا ضامن ہے اور روحانی لحاظ سے تقویٰ کا منبع اور سرچشمہ ہے۔اس سے خوش خلقی - عفت - دیانت۔نیک چینی اور تزکیہ نفس کی توفیق ملتی ہے۔صبر و جرات کی قوتوں کی نشو و نما ہوتی ہے۔غرباء کی تکالیف کا احساس ہوتا ہے اور ان کی مدد کرنے کا جذبہ بڑھتا ہے اور اس طرح اقتصادی اور طبقاتی مساوات کے رحجانات کو فروغ ملتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ صحت بھی بر قرارہ ر ہتی ہے۔روزہ رکھنے والے کا درجہ حدیث قدسی ہے : كُل عَمَلِ ابنِ دَمَلَهُ إِلَّا الصِّيَامُ فَإِنَّهُ لِي وَأَنَا اجْرِى بِهِ وَالصّيَامُ جُنَّة له - وَالَّذِى نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ تَخَلُوتُ فَمِ الصَّائِهِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ - ٣ یعنی۔انسان کے سب کام اس کے اپنے لئے ہیں مگر روزہ میرے لئے ہے اسلیئے میں خود اس کی جزا بنوں گا۔کیونکہ وہ اپنی تمام خواہشات اور کھانے پینے کو میری خاطر چھوڑ دیتا ہے۔نیز فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کی قبضہ قدرت میں محمد صلی الہ علیہ وسلم ) کی جانی ہے روز سے دار کے منہ کی بو اللہ تعالیٰ کے نزدیک کستوری سے بھی زیادہ پاکیزہ اور خوشگوار ہے۔اسی طرح فرمایا :- ۲۵۵ ه الفضل ا د کبر له سه : - بخاری کتاب الصوم ص : ه : بخاری کتاب الصوم ما :