فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 270 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 270

حضرت خلیفہ المسیح اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے تھے کہ : جو انسان روزہ میں اپنی چیزیں خدا کے لئے چھوڑتا ہے جن کا استعمال کرنا اس کے لئے کوئی قانونی اور اخلاقی جرم نہیں تو اسی اسے عادت ہوتی ہے کہ غیروں کی چیزوں کو ناجائز طریق سے استعمال نہ کرے اور ان کی طرف نہ دیکھے اور جب وہ خُدا کے لئے جائنہ چیزوں کو چھوڑتا ہے تو اس کی نظر نا جائز چیزوں پر پڑ ہی نہیں سکتی ہے غرض جہاں روزہ سے تزکیہ نفس و تجلی قلب ہوتی ہے وہیں روزہ جسمانی ، اخلاقی اور معاشرتی فوائد کا موجب بھی بن جاتا ہے اسی کشفی طاقت بڑھتی اور ترقی پذیر ہوتی ہے جس طرح جسمانی روٹی سے جسم کو قوت ملتی ہے ایسا ہی روحانی روٹی دیعنی روزہ کی حالت، روح کو قائم رکھتی ہے اور اس سے روحانی قوالی تیز تر ہوتے ہیں۔اسی لئے فرمایا : " أن تَصُومُوا خَيْرُ تَكُمْ نه یعنی اگر تم روزہ رکھ ہی لیا کرو تو اس میں تمہارے لئے بڑی خیر ہے۔قرآن کریم میں روزہ کو متقی بننے کا ایک مجرب نسخہ بتایا گیا ہے۔یعنی اگر تم اس نسخہ پر عمل کرد گے تو متقی بن جاؤ گے۔فرمایا :- " يَاَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ له ترجمہ :۔اسے لوگو جو ایمان لائے ہو تم پر بھی روزوں کا رکھنا اسی طرح فرض کیا گیا ہے جس طرح اُن لوگوں پر فرض کیا گیا تھا جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں تاکہ تم روحانی اور اخلاقی کمزوریوں سے بچو۔در جس قدر بدیاں پیدا ہوتی ہیں ان کا منبع چار چیزیں ہیں باقی آگے اس کی فروع ہیں۔وہ چار منابع یہ ہیں۔اول - کھانا۔دوئم پینا۔سوئم شہوت۔چہارم حرکت سے بچنے کی خواہش۔سب عیوب ان چاروں باتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ان چاروں منبعوں کو بدی سے روکنے کے لئے روزے رکھنے کا حکم دیا گیا ہے مثلاً ایک شخص خیانت اس لئے کہتا ہے کہ محنت سے بچنا چاہتا ہے یعنی محنت کر کے کھانا نہیں چاہتا اور دوسرے کا مال کھاتا ہے۔لیکن روزہ دار کو رات کے زیادہ حصہ میں اُٹھ کو عبادت کرنی پڑتی ہے۔سحری کے لئے اُٹھتا ہے۔سارا دن مونہ بند رکھتا ہے۔سو تا کم ہے۔ایک ماہ تک روزے دار کو یہ له الفضل ×1944 مشن : بقره ۱۸۵۱ : ۵۳ : بقره : ۱۸۴ :