فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات)

by Other Authors

Page 20 of 381

فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 20

۲۰ پھر اس کے ساتھ اسلام نے یہ ہدایت بھی دی ہے کہ اگر اپنے محلہ میں ہو تو اپنے محلہ کی مسجد میں نماز پڑھنے کی کوشش کی جائے اسی دوسرے ہمسایوں سے تعلق اور یکسانیت اور اجتماعیت کی روح کو فروغ حاصل ہوتا ہے۔بغرض اس طرح سے اسلام نے جماعت میں جو فوائد ہو سکتے ہیں ان کو عمل کرنے کی کوشش کی ہے۔روایات میں آتا ہے کہ ایک صحابی سے کسی نے کہا کہ چلو فلاں محلہ میں جا کر نماز پڑھیں اس صحابی نے کہا یں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ اپنے محلہ کی مسجد میں نماز ادا کرنی چاہیئے اس لئے میں تو اپنے ہی محلہ کی مسجد میں نماز ادا کروں گا۔پھر اسلامی نمازہ اتنے اوقات میں مقرر ہے کہ دوسرے مذاہب میں اس کی کوئی مثال نہیں مل سکتی ملا کر طلوع شمس سے پہلے نماز ہے (۲) زوال شمس کے بعد نماز ہے (۳) غروب شمس کے قریب نماز ہے دم غروب آفتاب کے بعد نماز ہے (ہ) رات کو سونے سے پہلے نماز ہے اور یہ پانچ نمازیں فرض ہیں۔یہ نہیں کہ ان کی ادائیگی کسی کی مرضی پر منحصر ہو۔اسقدر عبادت اور پھر با جماعت عبادت اوڑی میں کہاں پائی جاتی ہر ؟ خلاصہ یہ کہ اسلام نے نماز کے لئے مختلف اوقات کا جو اصل قائم کیا ہے اور جسکے ذریعہ اسلام نے بکثرت قومی اجتماع کی صورت پیدا کی ہے۔اس کی دنیا میں اوبر کہیں مثال نہیں ملتی۔پس اس لحاظ سے نمازہ ایک ایسی عبادت ہے جو دوسر سے تمام مذاہب کی عبادتوں سے مختلف ہے اس میں اجتماعیت اور انفرادیت دونوں کا لحاظ رکھا گیا ہے۔نماز پڑھنے کے وقت مسلمان اللہ تعالیٰ کی حمد اور اس کی نشاء کرتے ہیں اور اس کے حضور میں دعائیں کرتے ہیں اور اپنی اصلاح اور روحانی ترقی اور اپنے دوستوں اور عزیزوں اور باقی سب دنیا کی جسمانی اور روحانی ترقی کے لئے اس کے سامنے درخواستیں پیش کرتے ہیں ان کی اس سادہ نمازہ کی شان یہ ہوتی ہے کہ نماز کے وقت میں کوئی مومن او ہر ادہر نہیں دیکھ ستان نماز میں کسی اور سے بات کر سکتا ہے مسجد میں نماز ادا کرتے وقت کسی قومی یا نسلی امتیاز کا لحاظ نہیں رکھا جاتا۔اللہ تعالیٰ کے حضور سب برابر ہیں۔غریب اور امیر ایک صف میں کھڑے ہوتے ہیں۔بادشاہ کے ساتھ اس کا خادم کھڑے ہونے کاحق رکھتا ہے اس کا کناس بھی اس کے ساتھ کھڑے ہونے کا حق رکھتا ہے۔نماز کے وقت میں ایک حج اور ایک مجرم - ایک جرنیل اور ایک سپاہی پہلو بہ پہلو کھڑے ہوتے ہیں کوئی کسی کی طرف انگلی نہیں اُٹھا سکتا کوئی کسی کو اس کی جگہ سے پیچھے نہیں ہٹا سکتا مسجد میں ہر ایک برابر کا حقدار ہے اور مساوی درجہ رکھتا ہے۔پس تمام کے تمام ایک ہی درجہ میں خاموشی سے خدا تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں اور امام کے اشارے پر رکوع اور سجود اور قیام کے احکام بجالاتے ہیں بعض اوقات امام قرآن شریف کی آیتیں بلند آواز سے پڑھتا ہے تاکہ ساری جماعت ایک خاص نصیحت کو۔