فقہ احمدیہ (حصہ اول۔عبادات) — Page 19
19 الله نوافل رکھ دیئے اسی طرح فرائض کے بعد کچھ سنتیں اور نوافل رکھ لیے اس طرح نمازہ کو اس نے دو دیواروں کے درمیان محفوظ کر لیا اور انسان کے لئے اس بات کا موقع بہم پہنچا دیا کہ وہ دنیوی خیالات سے علیحدہ ہو کر نماز ادا کر سکے اور شیطانی حملوں سے ہر ممکن طریق سے محفوظ رہ سکے۔پھر اسلام نے نماز کے لئے ایک قبلہ مقرر کیا ہے جس کی طرف ہر نماز پڑھنے والا منہ کرتا ہے مثلاً افریقہ والے مشرق کی طرف منہ کرتے ہیں یورپ والے جنوب کی طرف منہ کرتے ہیں۔ایران والے جنوب مغرب کی طرف منہ کرتے ہیں۔بر صغیر پاک و بھارت والے مغرب کی طرف منہ کرتے ہیں اور اس طرح ساری دنیا کے مسلمانوں میں خواہ وہ شمال میں رہتے ہوں یا جنوب میں مشرق میں ہوں یا مغرب ہیں۔یہ احساس مستحکم ہو جاتا ہے کہ وہ ایک سمت کی طرف منہ کر کے کھڑے ہیں یہ ایک بہت بڑا اتحاد کا ذریعہ ہے بشر طیکہ مسلمان اسے فائدہ اٹھائیں مگر اس کی ساتھ ہی اسلام نے یہ بھی کہدیا ہے کہ قبلہ اپنی ذات میں کوئی خوبی نہیں رکھتا اور یہ اس لئے کہ تا شرک پیدا نہ ہو جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :- وَلِلَّهِ الْمَشْرِقُ والمَغْرِبُ ، فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللهِ للہ تعالی کے لئے مشرق اور مغرب سب برابر ہیں۔جمعہ منہ کہ و اُدھر ہی تم اللہ تعالی گوپاو گے۔غرض عبادت کو اس کماں تک اور کسی مذہب نے نہیں پہنچایا اور یہ اسلام کی فضیلت کا ایک بہت بڑا ثبوت ہے۔پھر اسلامی عبادت میں جماعت کا اصول قائم کیا گیا ہے جو مذہب کی اصل غرض ہے ظاہر ہے که انسانی زندگی دو پہلووں پر مشتمل ہے۔انفرادی اور اجتماعی - مذہب ، سیاست، قومیت، اخلاق - تمدن تمام امور میں ان دونوں پہلوؤں کا خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے ورنہ انسانی سوسائٹی خراب ہو جاتی ہے۔جن اقوام نے سیاست میں اجتماعی زندگی اور اس کی ذمہ داریوں کا خیال نہیں رکھا وہ کمزور ہو گئی ہیں۔اسی طرح جن اقوام نے انسان کو محض مشین سیاست کا ایک پرزہ تجویز کر دیا ہے انہوں نے بھی انسانی ترقی کے راستوں کو مسدود کر دیا ہے۔اصل اور کامیاب طریقہ یہی ہے کہ انفرادیت اور اجتماعیت دونوں کو ایک وقت میں اور تواندن کے ساتھ قائم رکھا جائے۔مذہب میں بھی یہی طریقہ کامیاب اور مفید ہو سکتا ہے۔اسلام نے اس حکمت کو خاص طور پر مد نظر رکھا ہے اور مذہب میں اجتماعی رفرح کو ایک مقرا در معزز مقام عطا کیا ہے مثلاً نماز ہے اس میں انفرادیت بھی ہے اور اجتماعیت بھی۔لیکن اس میں جو جماعتی رنگ پایا جاتا ہے اُسے ایک خاص امتیاز حاصل ہے کیونکہ اسلام میں نمازہ با جماعت کو واجب قرار دیدیا گیا ہے اور سوائے معذوروں کے اہمیں سب کا آنا ضروری سمجھا گیا ہے۔ت: بقرہ : ۱۱۶